کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
احکام کا بیان
باب
لوگ امام سے کس طرح بیعت کریں؟
حدیث نمبر
6713
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ مَالِکٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ الرَّهْطَ الَّذِينَ وَلَّاهُمْ عُمَرُ اجْتَمَعُوا فَتَشَاوَرُوا فَقَالَ لَهُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لَسْتُ بِالَّذِي أُنَافِسُکُمْ عَلَی هَذَا الْأَمْرِ وَلَکِنَّکُمْ إِنْ شِئْتُمْ اخْتَرْتُ لَکُمْ مِنْکُمْ فَجَعَلُوا ذَلِکَ إِلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَلَمَّا وَلَّوْا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَمْرَهُمْ فَمَالَ النَّاسُ عَلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَتَّی مَا أَرَی أَحَدًا مِنْ النَّاسِ يَتْبَعُ أُولَئِکَ الرَّهْطَ وَلَا يَطَأُ عَقِبَهُ وَمَالَ النَّاسُ عَلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُشَاوِرُونَهُ تِلْکَ اللَّيَالِي حَتَّی إِذَا کَانَتْ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَصْبَحْنَا مِنْهَا فَبَايَعْنَا عُثْمَانَ قَالَ الْمِسْوَرُ طَرَقَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بَعْدَ هَجْعٍ مِنْ اللَّيْلِ فَضَرَبَ الْبَابَ حَتَّی اسْتَيْقَظْتُ فَقَالَ أَرَاکَ نَائِمًا فَوَاللَّهِ مَا اکْتَحَلْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ بِکَبِيرِ نَوْمٍ انْطَلِقْ فَادْعُ الزُّبَيْرَ وَسَعْدًا فَدَعَوْتُهُمَا لَهُ فَشَاوَرَهُمَا ثُمَّ دَعَانِي فَقَالَ ادْعُ لِي عَلِيًّا فَدَعَوْتُهُ فَنَاجَاهُ حَتَّی ابْهَارَّ اللَّيْلُ ثُمَّ قَامَ عَلِيٌّ مِنْ عِنْدِهِ وَهُوَ عَلَی طَمَعٍ وَقَدْ کَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَخْشَی مِنْ عَلِيٍّ شَيْئًا ثُمَّ قَالَ ادْعُ لِي عُثْمَانَ فَدَعَوْتُهُ فَنَاجَاهُ حَتَّی فَرَّقَ بَيْنَهُمَا الْمُؤَذِّنُ بِالصُّبْحِ فَلَمَّا صَلَّی لِلنَّاسِ الصُّبْحَ وَاجْتَمَعَ أُولَئِکَ الرَّهْطُ عِنْدَ الْمِنْبَرِ فَأَرْسَلَ إِلَی مَنْ کَانَ حَاضِرًا مِنْ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَأَرْسَلَ إِلَی أُمَرَائِ الْأَجْنَادِ وَکَانُوا وَافَوْا تِلْکَ الْحَجَّةَ مَعَ عُمَرَ فَلَمَّا اجْتَمَعُوا تَشَهَّدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ يَا عَلِيُّ إِنِّي قَدْ نَظَرْتُ فِي أَمْرِ النَّاسِ فَلَمْ أَرَهُمْ يَعْدِلُونَ بِعُثْمَانَ فَلَا تَجْعَلَنَّ عَلَی نَفْسِکَ سَبِيلًا فَقَالَ أُبَايِعُکَ عَلَی سُنَّةِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالْخَلِيفَتَيْنِ مِنْ بَعْدِهِ فَبَايَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَبَايَعَهُ النَّاسُ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ وَأُمَرَائُ الْأَجْنَادِ وَالْمُسْلِمُونَ
عبد ﷲ بن محمد بن اسماء، جویریہ، مالک، زہری، حمید بن عبدالرحمن، مسور بن مخرمہ سے روایت کرتے ہیں وہ لوگ جنہیں حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے خلافت کا اختیار دیا تھا جمع ہوئے اور مشورہ کیا کہ ان لوگوں سے عبدالرحمن نے کہا کہ میں تم سے اس معاملہ میں جھگڑنے والا نہیں ہوں، لیکن اگر تم چاہو تو تم ہی میں سے کسی کو تمہارے لئے منتخب کر دوں، چناچہ ان لوگوں نے یہ معاملہ عبدالرحمن پر چھوڑ دیا جب ان لوگوں نے عبدالرحمن کے پیچھے ہوئے یہاں تک کہ ان بقیہ لوگوں میں سے کسی کے پاس ایک آدمی بھی نظر نہیں آتا تھا لوگوں عبدالرحمن سے ان راتوں میں مشورہ کرتے رہے یہاں تک کہ جب وہ رات آئی جس کی صبح میں ہم لوگوں نے حضرت عثمان کے ہاتھ پر بیعت کی تھی، مسور کا بیان ہے کہ تھوڑی رات گزر جانے کے بعد عبدالرحمن نے میرا دروازہ اس زور سے کھٹکھٹایا کہ میری آنکھ کھل گئی انہوں نے کہا کہ میں تمہیں سوتا ہوا دیکھتا ہوں حالانکہ خدا کی قسم، ان راتوں میں میری آنکھ بھی نہیں لگی، تم چلو اور زبیر کو میرے پاس بلاؤ میں ان دونوں کو بلا لاؤ، چناچہ میں نے انہیں بھی بلا لیا، ان سے بہت رات گئے تک سر گوشی کرتے رہے، پھر حضرت علی کے پاس سے اٹھے تو ان کے دل میں خلافت کی خواہش تھی، اور عبدالرحمن کو ان کی خلافت سے اختلاف امت کا اندیشہ تھا، پھر عبدالرحمن نے کہا حضرت عثمان کو بلا لاؤ تو ان سے سر گوشی کرتے رہے، یہاں تک کہ صبح کی اذان نے ان کو جدا کیا، جب لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی اور یہ لوگ منبر کے پاس جمع ہوئے تو مہاجرین اور انصار میں سے جو لوگ موجود تھے ان کو بلا بھیجا، اور سردار لشکر کو بلا بھیجا، یہ سب لوگ حج میں حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کیساتھ شریک ہوئے تھے، جب سب لوگ جمع ہو گئے تو حضرت عبدالرحمن نے خطبہ پڑھا پھر کہا کہ اما بعد اے علی میں نے لوگوں کی حالت پر نظر کی ہے تو دیکھا کہ وہ عثمان کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے ہیں اس لئے تم اپنے دل میں میری طرف سے کچھ خیال نہ کرنا، تو حضرت علی نے (حضرت عثمان سے کہا) میں ﷲ اور اس کے رسول اور آپ دونوں خلیفہ کی سنت پر تمہارے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں عبدالرحمن نے بھی بیعت کی اور تمام لوگوں نے مہاجرین و انصار، سرداران لشکر اور مسلمانوں نے بیعت کی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment