کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
فتنوں کا بیان
باب
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت حسن بن علی کے متعلق فرمانا کہ یہ میرا بیٹا ہے۔
حدیث نمبر
6627
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ قَالَ عَمْرٌو أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ أَنَّ حَرْمَلَةَ مَوْلَی أُسَامَةَ أَخْبَرَهُ قَالَ عَمْرٌو قَدْ رَأَيْتُ حَرْمَلَةَ قَالَ أَرْسَلَنِي أُسَامَةُ إِلَی عَلِيٍّ وَقَالَ إِنَّهُ سَيَسْأَلُکَ الْآنَ فَيَقُولُ مَا خَلَّفَ صَاحِبَکَ فَقُلْ لَهُ يَقُولُ لَکَ لَوْ کُنْتَ فِي شِدْقِ الْأَسَدِ لَأَحْبَبْتُ أَنْ أَکُونَ مَعَکَ فِيهِ وَلَکِنَّ هَذَا أَمْرٌ لَمْ أَرَهُ فَلَمْ يُعْطِنِي شَيْئًا فَذَهَبْتُ إِلَی حَسَنٍ وَحُسَيْنٍ وَابْنِ جَعْفَرٍ فَأَوْقَرُوا لِي رَاحِلَتِي
علی بن عبد ﷲ ، سفیان، عمرو، محمد بن علی، حرملہ، اسامہ کے مولی سے روایت کرتے ہیں حرملہ نے بیان کیا کہ مجھ کو اسامہ نے حضرت علی کے پاس بھیجا اور کہا کہ تم سے اس وقت پوچھیں گے کس چیز نے تمہارے ساتھی کو میرے ساتھ رہنے سے پیچھے رکھا تو ان کو میری طرف سے کہہ دینا کہ اگر آپ شیر کے منہ میں ہوں تو مجھے پھر بھی پسند ہے کہ میں اس میں آپ کے ساتھ رہوں لیکن یہ معاملہ ایسا ہے کہ میں نے نہیں دیکھا، حضرت علی نے مجھے کچھ نہیں دیا تو میں حضرت حسن، حضرت حسین، اور ابن جعفر کے پاس گیا تو انہوں نے میری سواری کو لدوادیا، یعنی بہت زیادہ مال دے کر روانہ کیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment