کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
فتنوں کا بیان
باب
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت حسن بن علی کے متعلق فرمانا کہ یہ میرا بیٹا ہے۔
حدیث نمبر
6626
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ أَبُو مُوسَی وَلَقِيتُهُ بِالْکُوفَةِ وَجَائَ إِلَی ابْنِ شُبْرُمَةَ فَقَالَ أَدْخِلْنِي عَلَی عِيسَی فَأَعِظَهُ فَکَأَنَّ ابْنَ شُبْرُمَةَ خَافَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَفْعَلْ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ قَالَ لَمَّا سَارَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِلَی مُعَاوِيَةَ بِالْکَتَائِبِ قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ لِمُعَاوِيَةَ أَرَی کَتِيبَةً لَا تُوَلِّي حَتَّی تُدْبِرَ أُخْرَاهَا قَالَ مُعَاوِيَةُ مَنْ لِذَرَارِيِّ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ أَنَا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ نَلْقَاهُ فَنَقُولُ لَهُ الصُّلْحَ قَالَ الْحَسَنُ وَلَقَدْ سَمِعْتُ أَبَا بَکْرَةَ قَالَ بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ جَائَ الْحَسَنُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنْ الْمُسْلِمِينَ
علی بن عبد ﷲ ، سفیان، اسرائیل، ابوموسیٰ سے روایت کرتے ہیں میں ان سے کوفہ میں ملا تھا وہ شبرمہ کے پاس آئے اور کہا کہ مجھے عیسیٰ کے پاس لے چلو تاکہ میں نصیحت کروں لیکن ابن شبرمہ کوخوف ہوا، اس لئے اس نے ایسا نہ کیا، اسرائیل نے کہا کہ ہم سے حسن نے بیان کیا کہ حسن بن علی معاویہ کے مقابلہ کے لئے لشکر لے چلے، تو عمر بن عاص نے معاویہ سے کہا میں نے لشکر حسن کے پاس دیکھا ہے جو واپس نہ ہوگا جب تک کہ مقابل کی فوج کو بھگا نہ لے، معاویہ نے کہا کہ مسلمانوں کی اولاد کی نگرانی کون کرے گا، عمر بن عاص نے کہا کہ نے کہا کہ ہم ان سے ملیں گے اور صلح کے لئے گفتگو کریں گے، حضرت حسن بصری نے کہا کہ میں نے ابوبکرہ سے بیان کرتے ہوئے سنا کہ ایک بار نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میرا یہ بیٹا سردار ہے اور امید ہے کہ ﷲ تعالی اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کر ادے گا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment