Wednesday, November 2, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:2119,TotalNo:6770


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
آرزو کرنے کا بیان
باب
عرب کے وفود کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیتوں کا بیان کہ ان لوگوں کو پہنچادیں جو ان سے پیچھے رہ گئےہیں
حدیث نمبر
6770
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُقْعِدُنِي عَلَی سَرِيرِهِ فَقَالَ لِي إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ الْوَفْدُ قَالُوا رَبِيعَةُ قَالَ مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ أَوْ الْقَوْمِ غَيْرَ خَزَايَا وَلَا نَدَامَی قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَکَ کُفَّارَ مُضَرَ فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ وَنُخْبِرُ بِهِ مَنْ وَرَائَنَا فَسَأَلُوا عَنْ الْأَشْرِبَةِ فَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ وَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ أَمَرَهُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللَّهِ قَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامُ الصَّلَاةِ وَإِيتَائُ الزَّکَاةِ وَأَظُنُّ فِيهِ صِيَامُ رَمَضَانَ وَتُؤْتُوا مِنْ الْمَغَانِمِ الْخُمُسَ وَنَهَاهُمْ عَنْ الدُّبَّائِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ وَرُبَّمَا قَالَ الْمُقَيَّرِ قَالَ احْفَظُوهُنَّ وَأَبْلِغُوهُنَّ مَنْ وَرَائَکُمْ
علی بن جعد، شعبہ (دوسری سند) اسحاق، نضر، شعبہ، ابوجمرہ سے روایت کرتے ہیں ابن عباس مجھے تخت پر بٹھاتے تھے انہوں نے بیان کیا کہ جب عبدالقیس کا وفد رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ کون سا وفد ہے؟ ان لوگوں نے کہا کہ ربیعہ، آپ نے فرمایا کہ مبارک ہو اس وفد اور قوم کا آنا نہ تو رسوا ہوں اور نہ شرم سار، ان لوگوں نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ہمارے اور آپ کے درمیان کفار مضر ہیں اس لئے آپ ہمیں ایسی باتوں کا حکم دیں جس پر عمل کر کے ہم جنت میں داخل ہو جائیں، اور اپنے پیچھے رہ جانے والوں کو بھی بتلا دیں، ان لوگوں نے پینے کی چیزوں کے متعلق پوچھا تو آپ نے چار چیزوں کا حکم دیا اور چار چیزوں سے منع فرمایا، ان کو ﷲ پر ایمان لانے کا حکم دیا آپ نے فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ ایمان با ﷲ کیا ہے، انہوں نے عرض کیا کہ ﷲ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا کہ وہ اس چیز کی شہادت دینا کہ ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں جو اکیلا ہے، اور اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد ﷲ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرو، اور زکوۃ دو، راوی کا بیان ہے کہ میرا گمان ہے کہ آپ نے رمضان کے روزے بھی فرمائے، اور مال غنیمت میں سے خمس دینا اور انہیں دباء، حنتم، مزفت، اور نقیر سے منع فرمایا، اور کبھی مقیر کا لفظ روایت کیا ہے، آپ نے فرمایا کہ انہیں یاد رکھو اور ان کو پہنچاؤ جو تم سے پیچھے رہ گئے ہیں-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment