Saturday, October 2, 2010

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:110

حَدَّثَنَا مُوسَی قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي حَصِينٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَکْتَنُوا بِکُنْيَتِي وَمَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ فِي صُورَتِي وَمَنْ کَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

مو سی ابوعوانہ، ابوحصین، ابوصالح، ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایامیرا نام رکھ لو، مگر میری کنیت (جو ابوالقاسم ہے) نہ رکھو اور (یقین کر لو کہ) جس شخص نے مجھے خواب میں دیکھا تو یقینا اس نے مجھے دیکھ لیا اس لئے کہ شیطان میری صورت نہیں بناسکتا اور جو شخص عمدا میرے اوپر جھوٹ بولے تو اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکانا آگ میں تلاش کرے



کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = علم کا بیان
باب = اس شخص پر کتنا گناہ ہے جو نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ بولے؟
جلد نمبر  1
حدیث نمبر  110

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:109

حَدَّثَنَا مَکِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ هو ابن الأَکْوَعِ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ يَقُلْ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

مکی بن ابراہیم، یزید بن ابی عبید، سلمہ بن اکوع رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرمایا کہ میں نے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو کوئی میری نسبت وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی، تو اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکانا آگ میں تلاش کرے



کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = علم کا بیان
باب = اس شخص پر کتنا گناہ ہے جو نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ بولے؟
جلد نمبر  1
حدیث نمبر  109

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:108

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ أَنَسٌ إِنَّهُ لَيَمْنَعُنِي أَنْ أُحَدِّثَکُمْ حَدِيثًا کَثِيرًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَعَمَّدَ عَلَيَّ کَذِبًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

ابومعمر، عبدالواث، عبدالعزیز سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ مجھے بہت حدیثیں بیان کرنے سے یہ امر منع کرتا ہے کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص مجھ پر عمدا جھوٹ بولے تو اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکانہ آگ میں تلاش کرے



کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = علم کا بیان
باب = اس شخص پر کتنا گناہ ہے جو نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ بولے؟
جلد نمبر  1
حدیث نمبر  108

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:107

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ لِلزُّبَيْرِ إِنِّي لَا أَسْمَعُکَ تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَمَا يُحَدِّثُ فُلَانٌ وَفُلَانٌ قَالَ أَمَا إِنِّي لَمْ أُفَارِقْهُ وَلَکِنْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ مَنْ کَذَبَ عَلَيَّ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

ابو الولید، شعبہ، جامع بن شداد، عامر بن عبد ﷲ بن زبیر، عبد ﷲ بن زبیر روایت کرتے ہیں کہ ایک دن اپنے والد حضرت زبیر سے کہنے لگے کہ جس طرح فلاں فلاں صحابی حضور صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی حدیثیں کثرت سے نقل کرتے ہیں آپ کو میں نے اس طرح روایت کرتے نہیں سنا، زبیر بولے کہ آگاہ رہو، میں رسول ﷲ سے جدا نہیں ہوا (مجھے بھی بہت حدیثیں معلوم ہیں) لیکن میں نے آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص میرے اوپر جھوٹ بولے تو اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکا نہ آگ میں تلاش کرے (اس لئے بہت حدیثیں بیان کرتے ہوئے ڈرتا ہوں)



کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = علم کا بیان
باب = اس شخص پر کتنا گناہ ہے جو نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ بولے؟
جلد نمبر  1
حدیث نمبر  107

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:106

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْصُورٌ قَالَ سَمِعْتُ رِبْعِيَّ بْنَ حِرَاشٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَکْذِبُوا عَلَيَّ فَإِنَّهُ مَنْ کَذَبَ عَلَيَّ فَلْيَلِجْ النَّارَ

علی بن جعد، شعبہ، منصور، ربعی بن خراش، علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے اوپر جھوٹ نہ بولنا کیونکہ جو شخص مجھ پر جھو ٹ بولے اس کا ٹھکانہ جہنم ہے



کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = علم کا بیان
باب = اس شخص پر کتنا گناہ ہے جو نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ بولے؟
جلد نمبر  1
حدیث نمبر  106

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:105

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ  أَبِي بَکْرَةَ ذُکِرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَإِنَّ دِمَائَکُمْ وَأَمْوَالَکُمْ قَالَ مُحَمَّدٌ وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَأَعْرَاضَکُمْ عَلَيْکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَةِ يَوْمِکُمْ هَذَا فِي شَهْرِکُمْ هَذَا أَلَا لِيُبَلِّغ الشَّاهِدُ مِنْکُمْ الْغَائِبَ وَکَانَ مُحَمَّدٌ يَقُولُ صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ ذَلِکَ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ مَرَّتَيْنِ

عبد ﷲ بن عبد الوہاب، حماد، ایوب، محمد، ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے ایک مرتبہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کیا کہ آپ نے فرمایا ہے تمہارے خون اور تمہارے مال، محمد (جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں) کہتے ہیں مجھے خیال ہوتا ہے کہ یہ بھی کہا اور تمہاری آبروئیں تم لوگوں پر (ہمیشہ) ایسے ہی حرام ہیں، جیسے ان کی حرمت تمہارے اس دن میں تمہارے اس مہینہ میں ہے، آگاہ رہو، تم میں سے حاضر کو چاہیے کہ غائب کو یہ خبر پہنچادے، اور محمد کہا کرتے کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے سچ فرمایا ایسا ہی ہے، پھر دومرتبہ (آپ نے فرمایا) آگاہ رہو، کیا میں نے پہنچادیا



کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = علم کا بیان
باب = جولو گ حاضر ہیں وہ ایسے لوگوں کو (علم) پہنچائیں جو غائب ہیں
جلد نمبر  1
حدیث نمبر  105

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:104

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ حَدَّثَناَ اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَی مَکَّةَ ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ أُحَدِّثْکَ قَوْلًا قَامَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حِينَ تَکَلَّمَ بِهِ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ مَکَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ فَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِکَ بِهَا دَمًا وَلَا يَعْضِدَ بِهَا شَجَرَةً فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ لِقِتَالِ رَسُولِ اللَّهِ فِيهَا فَقُولُوا إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَذِنَ لِرَسُولِهِ وَلَمْ يَأْذَنْ لَکُمْ وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي فِيهَا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ثُمَّ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ کَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ وَلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَقِيلَ لِأَبِي شُرَيْحٍ مَا قَالَ عَمْرٌو قَالَ أَنَا أَعْلَمُ مِنْکَ يَا أَبَا شُرَيْحٍ لَا يُعِيذُ عَاصِيًا وَلَا فَارًّا بِدَمٍ وَلَا فَارًّا بِخَرْبَةٍ

عبد ﷲ بن یوسف، لیث، سعید بن ابی سعید، ابوشر یح رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ عمرو بن سعید (والی مدینہ) جب ابن زبیر سے لڑنے کے لئے لشکروں کو مکہ کی طرف روانہ کر رہا تھا تو میں نے اس سے کہا اے امیر! مجھے اجازت دیں، تو میں تجھ سے ایک ایسی بات کہوں جس کو نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فتح کے دوسرے دن کھڑے ہو کر فرمایا تھا- اس کو میرے دونوں کانوں نے سنا ہے اور اس کو میرے دل نے یاد رکھا ہے اور جب آپ اس کو بیان فرمارہے تھے تو میری آنکھیں آپ کو دیکھ رہی تھیں آپ نے ﷲ کی حمد وثنا بیان فرمائی پھر فرمایا کہ مکہ (میں جدال وقتال وغیرہ) کو خدا نے حرام کیا ہے اسے آدمیوں سے نہیں حرام کیا، پس جو شخص ﷲ پرا ور قیامت پر ایمان رکھتاہو اس کے لئے جائز نہیں کہ مکہ میں خون ریزی کرے اور نہ (یہ جائز ہے کہ) وہاں کوئی درخت کاٹا جائے پھر اگر کوئی شخص رسول ﷲ کے لڑنے سے (ان چیزوں کا) جواز بیان کرے تو اس سے کہہ دینا کہ ﷲ نے اپنے رسول کو اجازت دے دی تھی اور تمہیں اجازت نہیں دی اور مجھے بھی ایک گھڑی بھر دن کی وہاں اجازت دی تھی پھر آج اس کی حرمت ویسی ہی ہو گئی جیسی کل تھی، پھر حاضر کو چاہیے کہ وہ غائب کو (یہ خبر) پہنچادے، ابوشریح سے کہا گیا کہ (اس حدیث کو سن کر) عمرو نے کیا جواب دیا؟ انہوں نے کہا کہ (یہ جواب دیا کہ) اے ابوشریح میں تم سے زیادہ جانتا ہوں، حرم کسی باغی کو اور خون کر کے بھاگ جانے والے کو پناہ نہیں دیتا



کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = علم کا بیان
باب = جولو گ حاضر ہیں وہ ایسے لوگوں کو (علم) پہنچائیں جو غائب ہیں
جلد نمبر  1
حدیث نمبر  104

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:103

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْکَةَ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَتْ لَا تَسْمَعُ شَيْئًا لَا تَعْرِفُهُ إِلَّا رَاجَعَتْ فِيهِ حَتَّی تَعْرِفَهُ وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حُوسِبَ عُذِّبَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ أَوَلَيْسَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا قَالَتْ فَقَالَ إِنَّمَا ذَلِکِ الْعَرْضُ وَلَکِنْ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَهْلِکْ

سعید بن ابی مریم، نافع ابن عمر، ابن ابی ملیکہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ عائشہ جب کسی ایسی بات کو سنتیں جس کو نہ سمجھتیں تو پھر دوبارہ اس میں تفتیش کرتیں، تاکہ اس کو سمجھ لیں- چناچہ (ایک مرتبہ) نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا (قیامت میں) جس کا حساب لیا گیا اس پر (ضرور) عذاب کیا جائے گا، عائشہ کہتی ہیں (یہ سن کر) میں نے کہا کہ ﷲ پاک تو یہ فرماتا ہے کہ ﴿فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا﴾، ترجمہ ﴿پس عنقریب اس سے آسان حساب لیا جائے گا﴾، (معلوم ہوا کہ حساب کے بعد عذاب کچھ ضروری نہیں) آپ نے فرمایا یہ حساب جس کا ذکر اس آیت میں ہے در حقیقت حساب نہیں بلکہ صرف پیش کردینا ہے لیکن جس شخص سے حساب میں جانچ کی گئی وہ یقینا ہلاک ہو گا



کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = علم کا بیان
باب = اس شخص کا بیان جو کوئی بات سنے اور اس کو نہ سمجھے پھر اس سے دوبار پوچھے یہاں تک سمجھ لے۔
جلد نمبر  1
حدیث نمبر  103

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:102

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ عَنْ ذَکْوَانَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ ثَلَاثَةً لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ

محمد بن بشار، غند ر، شعبہ، عبدالرحمن بن صہبانی، ذکوان، ابوسعید رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے اس کو روایت کیا اور عبدالرحمن بن صبہانی سے روایت ہے، بیان کیا کہ میں نے ابوحازم کو حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے سنا انہوں نے فرمایا کہ ایسے تین لڑکے جو ابھی تک بالغ نہ ہوئے ہوں



کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = علم کا بیان
باب = کیا عورتوں کی تعلیم کے لئے کوئی دن خاص مقرر کر دیا جائے؟
جلد نمبر  1
حدیث نمبر  102

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:101

حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ ذَکْوَانَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ النِّسَائُ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَلَبَنَا عَلَيْکَ الرِّجَالُ فَاجْعَلْ لَنَا يَوْمًا مِنْ نَفْسِکَ فَوَعَدَهُنَّ يَوْمًا لَقِيَهُنَّ فِيهِ فَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ فَکَانَ فِيمَا قَالَ لَهُنَّ مَا مِنْکُنَّ امْرَأَةٌ تُقَدِّمُ ثَلَاثَةً مِنْ وَلَدِهَا إِلَّا کَانَ لَهَا حِجَابًا مِنْ النَّارِ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ وَاثْنَتَيْنِ فَقَالَ وَاثْنَتَيْنِ

آدم، شعبہ، ابن اصبہانی، ابوصالح، ذکوان، حضرت ابوسعید خدری رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ عورتوں نے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی کہ (آپ سے فائدہ اٹھانے میں) مرد ہم سے بڑھ گئے ہیں آپ ہمارے لئے اپنی طرف سے کوئی دن مقرر فرما دیجئے، تو آپ نے ان سے کسی دن کا وعدہ کر لیا، اس دن آپ ان سے ملے اور انہیں نصیحت فرمائی اور (ان کے مناسب حال عبادت کا) انہیں حکم دیا منجملہ اس کے جو آپ نے (ان سے) فرمایا یہ تھا کہ تم میں سے جو عورت اپنے تین لڑکے آگے بھیج دے گی (اس کے تین لڑکے اس کے سامنے مرجائیں گے) تو وہ اس کے لئے (دوزخ کی) آگ سے حجاب ہو جائیں گے، ایک عورت بولی اور (اگر کوئی) دو (لڑکے آگے بھیجے) تو آپ نے فرمایا اور دو (کا بھی یہی حکم ہے)


کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = علم کا بیان
باب = کیا عورتوں کی تعلیم کے لئے کوئی دن خاص مقرر کر دیا جائے؟
جلد نمبر  1
حدیث نمبر  101