کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
اذان کا بیان
باب
نماز عشاء جماعت سے پڑھنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر
623
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ صَلَاةٌ أَثْقَلَ عَلَی الْمُنَافِقِينَ مِنْ الْفَجْرِ وَالْعِشَائِ وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ الْمُؤَذِّنَ فَيُقِيمَ ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا يَؤُمُّ النَّاسَ ثُمَّ آخُذَ شُعَلًا مِنْ نَارٍ فَأُحَرِّقَ عَلَی مَنْ لَا يَخْرُجُ إِلَی الصَّلَاةِ بَعْدُ
عمرو بن حفص، اعمش، ابوصالح، ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا فجر اور عشاء کی نماز سے زیادہ گراں منافقوں پر کوئی نماز نہیں لیکن اگر ان کو یہ معلوم ہو جائے کہ ان دونوں کے وقت پر پڑھنے میں کیا ثواب ہے تو ضرور ان میں آئیں اگرچہ انہیں گھٹنوں کے بل چلنا پڑے میں نے یہ پختہ ارادہ کرلیا تھا کہ موذں کو اذان دینے کا حکم دوں پھر کسی سے کہوں کہ وہ لوگوں کی امامت کرے اور میں آگ کے شعلے لے لوں اور جو لوگ اب تک گھر سے نماز کے لئے نہ نکلے ہوں ان کے گھروں کو ان کے سمیت جلا دوں لیکن ان کے اہل وعیال کا خیال آنے سے یہ ارادہ ترک کر دیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment