کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
نماز استسقاء کا بیان
باب
بارش کی دعا کرنے میں جمعہ کی نماز کو کافی سمجھنے کا بیان
حدیث نمبر
960
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ شَرِيکِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هَلَکَتْ الْمَوَاشِي وَتَقَطَّعَتْ السُّبُلُ فَدَعَا فَمُطِرْنَا مِنْ الْجُمُعَةِ إِلَی الْجُمُعَةِ ثُمَّ جَائَ فَقَالَ تَهَدَّمَتْ الْبُيُوتُ وَتَقَطَّعَتْ السُّبُلُ وَهَلَکَتْ الْمَوَاشِي فَادْعُ اللَّهَ يُمْسِکْهَا فَقَامَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اللَّهُمَّ عَلَی الْآکَامِ وَالظِّرَابِ وَالْأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ فَانْجَابَتْ عَنْ الْمَدِينَةِ انْجِيَابَ الثَّوْبِ
عبد ﷲ بن مسلمہ، مالک، شریک بن عبد ﷲ ، انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ لوگوں کے جانور تلف ہوگئے اور راستے بند ہوگئے اور لوگوں کے جانور تباہ ہوگئے، آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے ارفرمایا کہ یا ﷲ پہاڑوں، ٹیلوں اور نالوں اور درختوں کے اگنے کی جگہ پر برسا، چناچہ مدینہ سے بادل پھٹ گیا جس طرح کپڑا پھٹ جاتا ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment