کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
نماز استسقاء کا بیان
باب
قحط کے وقت مشرکوں کا مسلمانوں سے دعا کرنے کو کہنے کا بیان
حدیث نمبر
964
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِيرٍ عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ وَالْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي الضُّحَی عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ أَتَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ إِنَّ قُرَيْشًا أَبْطَئُوا عَنْ الْإِسْلَامِ فَدَعَا عَلَيْهِمْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ حَتَّی هَلَکُوا فِيهَا وَأَکَلُوا الْمَيْتَةَ وَالْعِظَامَ فَجَائَهُ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ جِئْتَ تَأْمُرُ بِصِلَةِ الرَّحِمِ وَإِنَّ قَوْمَکَ هَلَکُوا فَادْعُ اللَّهَ فَقَرَأَ فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَائُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ ثُمَّ عَادُوا إِلَی کُفْرِهِمْ فَذَلِکَ قَوْلُهُ تَعَالَی يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْکُبْرَی إِنَّا مُنْتَقِمُونَ يَوْمَ بَدْرٍ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ وَزَادَ أَسْبَاطٌ عَنْ مَنْصُورٍ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسُقُوا الْغَيْثَ فَأَطْبَقَتْ عَلَيْهِمْ سَبْعًا وَشَکَا النَّاسُ کَثْرَةَ الْمَطَرِ قَالَ اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا فَانْحَدَرَتْ السَّحَابَةُ عَنْ رَأْسِهِ فَسُقُوا النَّاسُ حَوْلَهُمْ
محمد بن کثیر، سفیان، منصور، اعمش، ابوالضحٰی مسروق سے روایت کرتے ہیں کہ مسروق نے کہا کہ میں ابن مسعود رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے کہا کہ کفار قریش نے ایمان لانے میں تاخیر کی، تو ان کے حق میں نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے بددعافرمائی، تو وہ قحط میں گرفتار ہوگئے یہاں تک کہ وہ اس میں ہلاک ہوگئے اور مردار اور ہڈیاں کھانے لگے تو آپ کے پاس ابوسفیان آیا اور کہا کہ اے محمد صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم تم صلہ رحمی کا حکم دیتے ہو اور تمہاری قوم ہلاک ہو رہی ہے اس لئے ﷲ سے دعا کرو، تو آپ نے یہ آیت آخرتک پڑھی، اس دن کا انتظار کرو جب کہ آسمان کھلا دھواں لے کر ئے گا پھر وہ اپنے کفر کی طرف لوٹ گئے، ﷲ تعالیٰ کے قول جس دن ہم ان کی سخت گرفت کریں گے بطشہ سے مراد بدر کا دن ہے، اور اسباط نے بروایت منصور اس زیادتی کے ساتھ روایت کیا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی تو بارش ہوئی، اور متواتر سات دن تک بارش ہوتی رہی اور لوگوں نے بارش کی زیادتی کی شکایت کی، تو آپ نے فرمایا کہ اے ﷲ ہمارے اردگرد برسا اور ہم پر نہ برسا، چناچہ بدلی آپ کے سرسے ہٹ گئی اور ان کے اردگرد بارش ہوتی ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment