Thursday, November 18, 2010

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:965


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
نماز استسقاء کا بیان
باب
بارش کی زیادتی کیوقت یہ دعا کرنے کا بیان کہ ہمارے اردگرد برسے اور ہم پر نہ برسے
حدیث نمبر
965
حَدَّثَني مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ جُمُعَةٍ فَقَامَ النَّاسُ فَصَاحُوا فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَحَطَ الْمَطَرُ وَاحْمَرَّتْ الشَّجَرُ وَهَلَکَتْ الْبَهَائِمُ فَادْعُ اللَّهَ يَسْقِينَا فَقَالَ اللَّهُمَّ اسْقِنَا مَرَّتَيْنِ وَايْمُ اللَّهِ مَا نَرَی فِي السَّمَائِ قَزَعَةً مِنْ سَحَابٍ فَنَشَأَتْ سَحَابَةٌ وَأَمْطَرَتْ وَنَزَلَ عَنْ الْمِنْبَرِ فَصَلَّی فَلَمَّا انْصَرَفَ لَمْ تَزَلْ تُمْطِرُ إِلَی الْجُمُعَةِ الَّتِي تَلِيهَا فَلَمَّا قَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ صَاحُوا إِلَيْهِ تَهَدَّمَتْ الْبُيُوتُ وَانْقَطَعَتْ السُّبُلُ فَادْعُ اللَّهَ يَحْبِسْهَا عَنَّا فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا فَکَشَطَتْ الْمَدِينَةُ فَجَعَلَتْ تَمْطُرُ حَوْلَهَا وَلَا تَمْطُرُ بِالْمَدِينَةِ قَطْرَةٌ فَنَظَرْتُ إِلَی الْمَدِينَةِ وَإِنَّهَا لَفِي مِثْلِ الْإِکْلِيلِ
محمد بن ابی بکر، معتمر، عبید ﷲ ، ثابت، انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے، تو لوگ کھڑے ہوئے اور شور مچانے لگے اور کہا کہ یا رسول ﷲ بارش رک گئی ہے، درخت سرخ ہوگئے، جانور تباہ ہوگئے، اس لئے آپ ﷲ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ بارش برسائے، آپ نے دوبار فرمایا کہ اے میرے ﷲ ہم لوگوں کو سیراب کر، بخدا اس وقت آسمان پر ابر کا ایک ٹکڑا بھی نظر نہیں رہا تھا، بدلی کا ایک ٹکڑا نمودار ہوا اور بارش ہونے لگی، آپ منبر سے اترے پھر نماز پڑھی، جب فارغ ہوئے تو اس کے بعد دوسرے جمعہ تک بارش ہوتی رہی، جب نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دینے کھڑے ہوئے تو لوگوں نے شور مچایا اور کہا کہ لوگوں کے گھر گرگئے اور راستے مسدود ہوگئے، آپ دعا فرمائیں کہ ﷲ تعالیٰ بارش کو روک دے، نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے تبسم فرمایا اور کہا کہ اے میرے ﷲ ہم لوگوں کے ارد گرد برسا اور ہم پر نہ برسا، مدینہ سے بدلی ہٹ گئی اور اس کے اردگرد بارش ہورہی تھی، لیکن مدینہ میں ایک قطرہ بھی نہیں برس رہا تھا، میں نے مدینہ کو دیکھا کہ وہ تاج کی طرح (روشن) تھا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment