کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
نماز قصر کا بیان
باب
نماز میں تھوکنے اور پھونکنے کا جائز ہونا۔
حدیث نمبر
1136
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَی نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَتَغَيَّظَ عَلَی أَهْلِ الْمَسْجِدِ وَقَالَ إِنَّ اللَّهَ قِبَلَ أَحَدِکُمْ فَإِذَا کَانَ فِي صَلَاتِهِ فَلَا يَبْزُقَنَّ أَوْ قَالَ لَا يَتَنَخَّمَنَّ ثُمَّ نَزَلَ فَحَتَّهَا بِيَدِهِ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِذَا بَزَقَ أَحَدُکُمْ فَلْيَبْزُقْ عَلَی يَسَارِهِ
سلیمان بن حرب، حماد، ایوب، نافع، ابن عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے قبلہ کی طرف بلغم پھینکا ہوا دیکھا، تو مسجد والوں پر غصہ ہوئے اور کہا کہ ﷲ تعالیٰ تمہارے قبلہ کی طرف ہے، چناچہ جب کوئی شخص نماز میں ہو تو نہ تھوکے اور نہ بلغم پھینکے، پھر منبر سے اترے اور اس کو اپنے ہاتھ سے کھرچ کر صاف کردیا، اور ابن عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص تھوکے، تو اپنی بائیں طرف تھوکے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment