Sunday, December 5, 2010

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:1141


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
نماز قصر کا بیان
باب
کوئی ضرورت پیش آنے پر نماز میں اپنے ہاتھوں کے اٹھانے کا بیان۔
حدیث نمبر
1141
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ بِقُبَائٍ کَانَ بَيْنَهُمْ شَيْئٌ فَخَرَجَ يُصْلِحُ بَيْنَهُمْ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَحُبِسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَانَتْ الصَّلَاةُ فَجَائَ بِلَالٌ إِلَی أَبِي بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ يَا أَبَا بَکْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ حُبِسَ وَقَدْ حَانَتْ الصَّلَاةُ فَهَلْ لَکَ أَنْ تَؤُمَّ النَّاسَ قَالَ نَعَمْ إِنْ شِئْتَ فَأَقَامَ بِلَالٌ الصَّلَاةَ وَتَقَدَّمَ أَبُو بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَکَبَّرَ لِلنَّاسِ وَجَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي فِي الصُّفُوفِ يَشُقُّهَا شَقًّا حَتَّی قَامَ فِي الصَّفِّ فَأَخَذَ النَّاسُ فِي التَّصْفِيحِ قَالَ سَهْلٌ التَّصْفِيحُ هُوَ التَّصْفِيقُ قَالَ وَکَانَ أَبُو بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَا يَلْتَفِتُ فِي صَلَاتِهِ فَلَمَّا أَکْثَرَ النَّاسُ الْتَفَتَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ يَأْمُرُهُ أَنْ يُصَلِّيَ فَرَفَعَ أَبُو بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَدَهُ فَحَمِدَ اللَّهَ ثُمَّ رَجَعَ الْقَهْقَرَی وَرَائَهُ حَتَّی قَامَ فِي الصَّفِّ وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّی لِلنَّاسِ فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَا لَکُمْ حِينَ نَابَکُمْ شَيْئٌ فِي الصَّلَاةِ أَخَذْتُمْ بِالتَّصْفِيحِ إِنَّمَا التَّصْفِيحُ لِلنِّسَائِ مَنْ نَابَهُ شَيْئٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَقُلْ سُبْحَانَ اللَّهِ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَی أَبِي بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا أَبَا بَکْرٍ مَا مَنَعَکَ أَنْ تُصَلِّيَ لِلنَّاسِ حِينَ أَشَرْتُ إِلَيْکَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ مَا کَانَ يَنْبَغِي لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
قتیبہ، عبدالعزیذ، ابوحازم، سہل بن سعدرضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ قباء میں بنی عوف کے درمیان جھگڑا ہوگیا ہے، آپ ان کے درمیان صلح کرانے چند صحابہ رضی ﷲ عنہ کے ساتھ روانہ ہوئے- چناچہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کو رکنا پڑا اور نماز کا وقت آگیا تو بلال رضی ﷲ عنہ حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ کے پاس آئے اور کہا اے ابوبکر رضی ﷲ عنہ، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کو رک جانا پڑا اور نماز کا وقت آچکا ہے، تو کیا آپ لوگوں کی امامت کرسکتے ہیں؟ حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ نے کہا کہ ہاں، اگر تمھاری خواہش ہے، چناچہ بلال رضی ﷲ عنہ نے تکبیر کہی اور ابوبکر رضی ﷲ عنہ آگے بڑھے اور تکبیر تحریمہ کہی اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم تشریف لائے اور صفوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھتے گئے، یہاں تک کہ پہلی صف کے پاس پہنچے تو لوگوں نے تصفیح کرنا شروع کیا- سہل نے کہا کہ تصفیح سے مراد تالی بجاناہے اور ابوبکر رضی ﷲ عنہ نماز میں کسی طرح متوجہ نہ ہوتے تھے، جب لوگوں نے بہت زیادہ تالی بجانا شروع کی تو مڑکر دیکھا تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے ان کی طرف حکم دیتے ہوئے اشارہ کیا کہ نماز پڑھائیں، ابوبکر رضی ﷲ عنہ نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور ﷲ کی تعریف بیان کی پھر الٹے پاوں پیچھے کی طرف واپس ہوگئے یہاں تک کہ صف میں مل کر کھڑے ہوگئے اور سول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم آگے بڑھے اور لوگوں کو نماز پرھائی جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایاکہ اے لوگو تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تمہیں کوئی بات نماز میں پیش آتی ہے تو تالی بجانا شروع کردیتے ہو تالی بجانا عورتوں کے لئے ہے جس شخص کو نماز میں کوئی بات پیش آئے تو سبحان ﷲ کہے پھر ابوبکر کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ اے ابوبکر تمہیں کس چیز نے نماز پڑھانے سے روکا جب کہ میں نے تمہیں اشارہ کیا تھا ابوبکر نےجواب دیا کہ ابوقحافہ کے بیٹے کے لئے کسی طرح یہ مناسب نہ تھا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی موجودگی میں نماز پڑھائے۔



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment