کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
نماز قصر کا بیان
باب
جب حالت نماز میں گفتگو کرے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرے اور اس کو سنے۔
حدیث نمبر
1157
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو عَنْ بُکَيْرٍ عَنْ کُرَيْبٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَرْسَلُوهُ إِلَی عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالُوا اقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنَّا جَمِيعًا وَسَلْهَا عَنْ الرَّکْعَتَيْنِ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُلْ لَهَا إِنَّا أُخْبِرْنَا عَنْکِ أَنَّکِ تُصَلِّينَهُمَا وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْهَا وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَکُنْتُ أَضْرِبُ النَّاسَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ عَنْهَا فَقَالَ کُرَيْبٌ فَدَخَلْتُ عَلَی عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَبَلَّغْتُهَا مَا أَرْسَلُونِي فَقَالَتْ سَلْ أُمَّ سَلَمَةَ فَخَرَجْتُ إِلَيْهِمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ بِقَوْلِهَا فَرَدُّونِي إِلَی أُمِّ سَلَمَةَ بِمِثْلِ مَا أَرْسَلُونِي بِهِ إِلَی عَائِشَةَ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَی عَنْهَا ثُمَّ رَأَيْتُهُ يُصَلِّيهِمَا حِينَ صَلَّی الْعَصْرَ ثُمَّ دَخَلَ عَلَيَّ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي حَرَامٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةَ فَقُلْتُ قُومِي بِجَنْبِهِ فَقُولِي لَهُ تَقُولُ لَکَ أُمُّ سَلَمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَمِعْتُکَ تَنْهَی عَنْ هَاتَيْنِ وَأَرَاکَ تُصَلِّيهِمَا فَإِنْ أَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخِرِي عَنْهُ فَفَعَلَتْ الْجَارِيَةُ فَأَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخَرَتْ عَنْهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ يَا بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ سَأَلْتِ عَنْ الرَّکْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَإِنَّهُ أَتَانِي نَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ فَشَغَلُونِي عَنْ الرَّکْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَهُمَا هَاتَانِ
یحیی بن سلیمان، ابن وہب، عمرو، بکیر، کریب، ابن عباس ومسور بن مخرمہ وعبدالرحمن بن ازہر رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان حضرات نے کریب کو عائشہ رضی ﷲ عنہا کے پاس بھیجا اور کہا کہ تم ان کے پاس جا کر ہم سب کی طرف سے سلام کہو اور ان سے عصر کی نماز کے بعد دو رکعتوں کے متعلق پوچھو اور یہ کہو کہ ہم لوگوں کو معلوم ہوا ہے کہ آپ یہ دونوں رکعتیں پڑھتی ہیں، حالانکہ ہمیں خبر ملی ہے کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، اور ابن عباس نے کہا کہ میں عمر بن خطاب کے ساتھ اس دو رکعت پڑھنے والے کو مارتا تھا، کریب نے کہا میں عائشہ رضی ﷲ عنہا کے پاس آیا اور انہیں وہ خبر پہنچادی جومیں لے کر آیا تھا- عائشہ رضی ﷲ عنہا نے کہا کہ ام سلمہ سے پوچھو، میں ان لوگوں کے پاس واپس آیا اور وہ بات سنادی جو عائشہ رضی ﷲ عنہا نے کہی تھی پھر ان لوگوں نے مجھے ام سلمہ کے پاس وہی پیغام دے کر بھیجا، جو عائشہ رضی ﷲ عنہا کے پاس دے کر بھیجا تھا، تو ام سلمہ نے بیان کیا میں نے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کو اس سے منع فرماتے ہوئے سنا، پھر میں نے عصر کی نماز کے بعدآپ کو انہیں پڑھتے ہوئے دیکھا پھر آپ میرے پاس تشریف لائے اور میرے پاس انصار میں سے بنی حرام کی چند عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں، میں نے ایک لونڈی کو آپ کے پاس بھیجا اور کہا کہ آپ کے پہلو میں کھڑی ہو جا اور آپ سے بیان کیا کہ ام سلمہ عرض کرتی ہیں کہ یا رسول ﷲ میں نے آپ کو ان دو رکعتوں کے پڑھنے سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے، اور میں آپ کو دیکھتی ہو ں کہ آپ پڑھ رہے ہیں، اگر وہ اپنے ہاتھ سے اشارہ کرے تو پیچھے ہٹ جا، چناچہ لونڈی نے ویسا ہی کیا جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا اے بنت ابی امیہ تو نے مجھ سے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے متعلق کے پوچھا، عبدالقیس کے کچھ لوگ میرے پاس آئے تو انہوں نے مجھ کو ان دو رکعتوں کے پڑھنے سے باز رکھا، جو ظہر کے بعد پڑھی جاتی ہیں، اور یہ دونوں رکعتیں وہی ہیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment