کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جنازوں کا بیان
باب
سلے ہوئے یا بغیر سلے ہوئے کرتے میں کفن دینے کا بیان
حدیث نمبر
1191
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ لَمَّا تُوُفِّيَ جَائَ ابْنُهُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِنِي قَمِيصَکَ أُکَفِّنْهُ فِيهِ وَصَلِّ عَلَيْهِ وَاسْتَغْفِرْ لَهُ فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَمِيصَهُ فَقَالَ آذِنِّي أُصَلِّي عَلَيْهِ فَآذَنَهُ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ جَذَبَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ أَلَيْسَ اللَّهُ نَهَاکَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَی الْمُنَافِقِينَ فَقَالَ أَنَا بَيْنَ خِيَرَتَيْنِ قَالَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ فَصَلَّی عَلَيْهِ فَنَزَلَتْ وَلَا تُصَلِّ عَلَی أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا
مسدد، یحیی بن سعید، عبیدﷲ ، نافع، ابن عمر، سے روایت کرتے ہیں کہ عبدﷲ ابن ابی جب مرا تو اس کا بیٹا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم ہمیں اپنا کرتہ عنایت کیجئے، کہ ہم اس میں اس کا کفن بنائیں اور آپ اس پر نماز پڑھیں اور اس کے لئے دعا مغفرت کریں، نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے اس کو اپنا کرتہ عنایت کیا اور فرمایا کہ مجھے خبر کر دینا میں نماز پڑھا دوں گا جب آپ نے اس پر نماز پڑھنے کا ارادہ کیا تو عمر رضی ﷲ عنہ نے آپ کو کھینچا اور کہا کہ ﷲ تعالی نے آپ کو منافقین پر نماز پڑھنے سے منع نہیں کیا؟ آپ نے فرمایا کہ مجھے دونوں باتوں کا اختیار دیا گیا ہے، ﷲ تعالی نے فرمایا تم ان کے لئے دعا مغفرت کرو یا نہ کرو، اگر تم ان کے لئے ستر بار بھی دعا کرو گے مغفرت کی تو بھی ﷲ تعالی ان کو نہیں بخشے گا، چناچہ آپ نے اس پر نماز پڑھی تو یہ آیت نازل ہوئی اور ان میں سے کسی پر کبھی بھی نماز نہ پڑھنا جب کہ وہ مرجائیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment