Sunday, December 5, 2010

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:1207


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جنازوں کا بیان
باب
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا بیان کہ میت کو اس کے گھر والوں کی طرف سے رونے کے سبب عذاب ہوتا ہے۔
حدیث نمبر
1207
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ قَالَ تُوُفِّيَتْ ابْنَةٌ لِعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِمَکَّةَ وَجِئْنَا لِنَشْهَدَهَا وَحَضَرَهَا ابْنُ عُمَرَ وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَإِنِّي لَجَالِسٌ بَيْنَهُمَا أَوْ قَالَ جَلَسْتُ إِلَی أَحَدِهِمَا ثُمَّ جَائَ الْآخَرُ فَجَلَسَ إِلَی جَنْبِي فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لِعَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ أَلَا تَنْهَی عَنْ الْبُکَائِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُکَائِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَدْ کَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ بَعْضَ ذَلِکَ ثُمَّ حَدَّثَ قَالَ صَدَرْتُ مَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ مَکَّةَ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِالْبَيْدَائِ إِذَا هُوَ بِرَکْبٍ تَحْتَ ظِلِّ سَمُرَةٍ فَقَالَ اذْهَبْ فَانْظُرْ مَنْ هَؤُلَائِ الرَّکْبُ قَالَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا صُهَيْبٌ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ادْعُهُ لِي فَرَجَعْتُ إِلَی صُهَيْبٍ فَقُلْتُ ارْتَحِلْ فَالْحَقْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَلَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ دَخَلَ صُهَيْبٌ يَبْکِي يَقُولُ وَا أَخَاهُ وَا صَاحِبَاهُ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا صُهَيْبُ أَتَبْکِي عَلَيَّ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُکَائِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَکَرْتُ ذَلِکَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَتْ رَحِمَ اللَّهُ عُمَرَ وَاللَّهِ مَا حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ لَيُعَذِّبُ الْمُؤْمِنَ بِبُکَائِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ وَلَکِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ لَيَزِيدُ الْکَافِرَ عَذَابًا بِبُکَائِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ وَقَالَتْ حَسْبُکُمْ الْقُرْآنُ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَی قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عِنْدَ ذَلِکَ وَاللَّهُ هُوَ أَضْحَکَ وَأَبْکَی قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْکَةَ وَاللَّهِ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا شَيْئًا
عبدان، عبدﷲ ، ابن جریج، عبدﷲ بن عبیدﷲ بن ابی ملیکہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ حضرت عثمان رضی ﷲ عنہ کی ایک لڑکی مکہ میں وفات پاگئی، تو ہم لوگ جنازہ میں شریک ہونے کے لئے پہنچے- ابن عمر رضی ﷲ عنہ اور ابن عباس رضی ﷲ عنہ بھی حاضر ہوئے- میں ان دونوں کے درمیان بیٹھا ہوا تھا یا یہ کہا کہ میں ان میں سے ایک کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور دوسرے آکر میرے پاس بیٹھ گئے، تو عبدﷲ بن عمر نے عثمان سے کہا کہ رونے سے کیوں نہیں روکتے ہو- اس لئے کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کے سبب عذاب ہوتا ہے تو ابن عباس رضی ﷲ عنہ نے فرمایا عمر رضی ﷲ عنہ بھی یہی کہتے تھے، چناچہ بیان کیا میں عمر رضی ﷲ عنہ کے ساتھ مکہ سے لوٹا یہاں تک کہ ہم بیداء میں پہنچے تو ایک سوار کو دیکھا کہ درخت کے سایہ میں سورہا تھا حضرت عمر رضی ﷲ عنہ نے کہا کہ جا کر دیکھو کون سورہا ہے؟ میں نے جا کر دیکھا تو وہ صہیب رضی ﷲ عنہ تھے میں نے حضرت عمر رضی ﷲ عنہ سے بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ انہیں میرے پاس بلا لاؤ میں پھر صہیب کے پاس گیا اور کہا چلو چناچہ صہیب امیرالمومنین سے ملے جب حضرت عمر مجروح ہوئے تو صہیب روتے ہوئے پہنچے اور کہنے لگے افسوس میرے بھایی افسوس اے میرے ساتھی۔ عمر نے فرمایا اے صہیب کیا تم مجھ پر روتے ہو حالانکہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے ابن عباس کا بیان ہے کہ جب حضرت عمر انتقال کرگئے تو میں نے یہ حدیث حضرت عائشہ سے بیان کی تو انہوں نے جو اب دیا کہ اللہ اس پر رحم کرے بخدا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ ﷲ مومن کو اس کے گھر والوں کے رونے کے سبب عذاب دیتا ہے بلکہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ﷲ تعالی کافر کا عذاب اس کے گھر والوں کے رونے کے سبب زیادہ کردیتا ہے اور عائشہ نے فرمایا کہ تمہارے لیے قرآن کافی ہے کہ کوئی گناہ گار دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہ اٹھائے گا ابن عباس نے اسوقت کہا ﷲ وہی ہے جس نے ہنسایا اور رلایا ابن ملیکہ نے کہا بخدا ابن عمر نے کچھ بھی نہیں کہا۔



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment