کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
زکوۃ کا بیان
باب
زکوٰۃ میں اسباب لینے کا بیان۔
حدیث نمبر
1360
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ أَنَّ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ کَتَبَ لَهُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ رَسُولَهُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ بِنْتَ مَخَاضٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ بِنْتُ لَبُونٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ فَإِنْ لَمْ يَکُنْ عِنْدَهُ بِنْتُ مَخَاضٍ عَلَی وَجْهِهَا وَعِنْدَهُ ابْنُ لَبُونٍ فَإِنَّهُ يُقْبَلُ مِنْهُ وَلَيْسَ مَعَهُ شَيْئٌ
محمد بن عبدﷲ ، عبدﷲ (بن مثنی) ثمامہ، حضرت انس نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ نے ان کو لکھ بھیجا جو ﷲ تعالی اور اس کے رسول نے فرض کیا ہے- اس میں یہ بھی تھا کہ اور جس شخص پر بنت مخاض ایک سال کی اونٹنی واجب ہو اور وہ اس کے پاس نہ ہو، بلکہ اس کے پاس بنت لبون (دو سال کی اونٹنی) ہو تو وہ اس سے لی جائے، اور زکوٰۃ وصول کرنے والا اس کو بیس درہم یا دو بکریاں دے گا اور اگر اس کے پاس اس قیمت کی بنت مخاض نہیں بلکہ بنت لبون ہو تو وہ اس سے لے لیا جائے گا اور اس کے بدلے کچھ نہیں دیا جائے گا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment