Saturday, January 1, 2011

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:1670


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
عمرہ کا بیان
باب
عمرہ کرنے والا جب طواف کرے پھر روانہ ہوجائے تو کیا طواف وداع کی طرف سے وہ کافی ہے۔
حدیث نمبر
1670
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ وَحُرُمِ الْحَجِّ فَنَزَلْنَا سَرِفَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ مَنْ لَمْ يَکُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ کَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلَا وَکَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ذَوِي قُوَّةٍ الْهَدْيُ فَلَمْ تَکُنْ لَهُمْ عُمْرَةً فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْکِي فَقَالَ مَا يُبْکِيکِ قُلْتُ سَمِعْتُکَ تَقُولُ لِأَصْحَابِکَ مَا قُلْتَ فَمُنِعْتُ الْعُمْرَةَ قَالَ وَمَا شَأْنُکِ قُلْتُ لَا أُصَلِّي قَالَ فَلَا يَضِرْکِ أَنْتِ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ کُتِبَ عَلَيْکِ مَا کُتِبَ عَلَيْهِنَّ فَکُونِي فِي حَجَّتِکِ عَسَی اللَّهُ أَنْ يَرْزُقَکِهَا قَالَتْ فَکُنْتُ حَتَّی نَفَرْنَا مِنْ مِنًی فَنَزَلْنَا الْمُحَصَّبَ فَدَعَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَقَالَ اخْرُجْ بِأُخْتِکَ الْحَرَمَ فَلْتُهِلَّ بِعُمْرَةٍ ثُمَّ افْرُغَا مِنْ طَوَافِکُمَا أَنْتَظِرْکُمَا هَا هُنَا فَأَتَيْنَا فِي جَوْفِ اللَّيْلِ فَقَالَ فَرَغْتُمَا قُلْتُ نَعَمْ فَنَادَی بِالرَّحِيلِ فِي أَصْحَابِهِ فَارْتَحَلَ النَّاسُ وَمَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ ثُمَّ خَرَجَ مُوَجِّهًا إِلَی الْمَدِينَةِ
ابو نعیم، افلح بن حمید، قاسم، حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم حج کا احرام باندھ کر حج کے مہینوں میں حج کے آداب کے ساتھ نکلے ہم مقام سرف میں اترے، نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے کہا کہ جس کے پاس ہدی نہ ہو اور وہ اس کوعمرہ بنانا چاہتا ہے تو عمرہ بنالے اور جس کے پاس ہدی ہے وہ ایسا نہ کرے اور نبی صلی ﷲ علیہ وسلم اور چند مقدور والے صحابہ کے پاس ہدی تھی وہ اس کوعمرہ نہ بنا سکے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی آپ نے فرمایا تمہیں کون سی چیز رلا رہی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ آپ نے اپنے صحابہ کو جو فرمایا وہ میں نے سن لیا میں تو عمرہ سے روک دی گئی ہوں آپ نے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ میں نے بتایا کہ میں نماز نہیں پڑھ سکتی، آپ نے فرمایا کہ تمہارے لئے کوئی حرج نہیں، تم آدم کی بیٹیوں میں سے ہو تم پر وہ چیز لکھ دی گئی ہے جو ان پر لکھی گئی تھی، تم اپنے حج میں رہو، شاید ﷲ تعالی تمہیں عمرہ بھی نصیب کرے، حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا کا بیان ہے کہ میں اس حال میں رہی یہاں تک کہ ہم منیٰ سے روانہ ہوئے تو ہم محصب میں اترے، آپ نے عبدالرحمن کو بلایا اور کہا کہ اپنی بہن کوحرم کی طرف لے جاؤ وہ عمرہ کا احرام باندھ لیں پھر تم دونوں اپنے طواف سے فارغ ہوجاؤ میں یہاں تمہارا انتظار کروں گا ہم درمیانی رات میں واپس ہوئے آپ نے فرمایا تم دونوں کو فراغت ہوگئی؟ میں نے کہا ہاں! آپ نے صحابہ میں کوچ کا اعلان کر دیا چناچہ لوگ روانہ ہوگئے اور وہ لوگ بھی جنہوں نے فجر کی نماز سے پہلے خانہ کعبہ کا طواف (وداع) کیا تھا پھر مدینہ کی طرف رخ کر کے چلے۔



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment