کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
روزے کا بیان
باب
اس شخص کا بیان جس نے سفرمیں افطار کیا تاکہ لوگوں کو دکھائے۔
حدیث نمبر
1822
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَی مَکَّةَ فَصَامَ حَتَّی بَلَغَ عُسْفَانَ ثُمَّ دَعَا بِمَائٍ فَرَفَعَهُ إِلَی يَدَيْهِ لِيُرِيَهُ النَّاسَ فَأَفْطَرَ حَتَّی قَدِمَ مَکَّةَ وَذَلِکَ فِي رَمَضَانَ فَکَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَدْ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَفْطَرَ فَمَنْ شَائَ صَامَ وَمَنْ شَائَ أَفْطَرَ
موسی ٰ بن اسماعیل، ابوعوانہ، منصور، مجاہد، طاؤس، ابن عباس رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم مدینہ سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے، آپ روزہ رکھتے رہے یہاں تک کہ جب عسفان پہنچے، تو پانی مانگا، پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے تاکہ لوگوں کو دکھائیں پھر آپ افطار کرتے رہے یہاں تک کہ مدینہ پہنچے اور یہ رمضان کا واقعہ ہے- ابن عباس رضی ﷲ عنہ نے فرمایا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے روزہ رکھا اور افطار بھی کیا جس کا روزہ رکھے اور جو چاہے افطار کرے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment