Sunday, January 2, 2011

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:1914


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
روزے کا بیان
باب
اگر کوئی شخص اعتکاف کرے اور اسے مناسب معلوم ہو کہ اعتکاف سے باہر ہوجائے۔
حدیث نمبر
1914
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَکَرَ أَنْ يَعْتَکِفَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ فَاسْتَأْذَنَتْهُ عَائِشَةُ فَأَذِنَ لَهَا وَسَأَلَتْ حَفْصَةُ عَائِشَةَ أَنْ تَسْتَأْذِنَ لَهَا فَفَعَلَتْ فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِکَ زَيْنَبُ ابْنَةُ جَحْشٍ أَمَرَتْ بِبِنَائٍ فَبُنِيَ لَهَا قَالَتْ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّی انْصَرَفَ إِلَی بِنَائِهِ فَبَصُرَ بِالْأَبْنِيَةِ فَقَالَ مَا هَذَا قَالُوا بِنَائُ عَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَزَيْنَبَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَالْبِرَّ أَرَدْنَ بِهَذَا مَا أَنَا بِمُعْتَکِفٍ فَرَجَعَ فَلَمَّا أَفْطَرَ اعْتَکَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ
محمد بن مقاتل، ابوالحسن، عبدﷲ ، اوزاعی، یحیی بن سعید، عمرہ بنت عبدالرحمن، عائشہ رضی ﷲ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کا تذکرہ کیا تو آپ سے حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا نے (اعتکاف کی) اجازت چاہی، آپ نے انہیں اجازت دیدی اور حفصہ نے حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا سے درخواست کی کہ ان کے لئے بھی اجازت چاہیں، عائشہ رضی ﷲ عنہا نے ان کے لئے بھی اجازت چاہی تو انہیں بھی اجازت مل گئی، زنیت بن جحش نے جب یہ ماجرا دیکھا تو انہوں نے بھی ایک خیمہ قائم کرنے کا حکم دیا، چناچہ ان کے لئے بھی خیمہ نصب کر دیا گیا، عائشہ رضی ﷲ عنہا کا بیان ہے کہ جب حضور صلی ﷲ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو اپنے خیمے کی طرف چلے، آپ کی نظر چند خیموں پر پڑی تو دریافت کیا کہ یہ کیا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا عائشہ رضی ﷲ عنہا اور حفصہ رضی ﷲ عنہا اور زینب کے خیمے ہیں، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے اس نیکی کا ارادہ نہیں کیا- میں اعتکاف میں نہیں رہوں گا، چناچہ آپ لوٹ گئے جب روزے ختم ہوئے تو شوال کے ایک عشرے میں اعتکاف کیا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment