Sunday, January 2, 2011

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:1957


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
خرید و فروخت کا بیان
باب
سنار کے پیشہ کے متعلق جو روایتیں آئی ہیں۔
حدیث نمبر
1957
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ خَالِدٍ عَنْ عِکْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مَکَّةَ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَلَا لِأَحَدٍ بَعْدِي وَإِنَّمَا حَلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ لَا يُخْتَلَی خَلَاهَا وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلَا يُلْتَقَطُ لُقْطَتُهَا إِلَّا لِمُعَرِّفٍ وَقَالَ عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِلَّا الْإِذْخِرَ لِصَاغَتِنَا وَلِسُقُفِ بُيُوتِنَا فَقَالَ إِلَّا الْإِذْخِرَ فَقَالَ عِکْرِمَةُ هَلْ تَدْرِي مَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا هُوَ أَنْ تُنَحِّيَهُ مِنْ الظِّلِّ وَتَنْزِلَ مَکَانَهُ قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ خَالِدٍ لِصَاغَتِنَا وَقُبُورِنَا
اسحق، خالد بن عبدﷲ ، عکرمہ، ابن عباس رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ﷲ نے مکہ کو حرام قرار دیا ہے اور مجھ سے پہلے اور میرے بعد کسی کے لئے حلال نہ ہوا تھا اور میرے لئے صرف دن کی ایک ساعت میں حلال کیا گیا وہاں کی گھاس نہ اکھاڑی جائے نہ اس کا درخت کاٹا جائے اور نہ اس کا شکار بھگایاجائے اور نہ وہاں کی کوئی گری ہوئی چیز اٹھائی جائے، مگر اس شخص کے لئے جائز ہے جو اس کی تشہیر کرے اور عباس بن عبدالمطلب نے عرض کیا کہ ہمارے سناروں اور گھروں کی چھتوں کے لئے اذخر کی اجازت دیجیے تو آپ نے فرمایا کہ اچھا اذخر کی اجازت ہے، عکرمہ نے کہا کیا تم جانتے ہو کہ اس کے شکار کو بھگانا کیا ہے؟ اس نے شکار کا بھگانا یہ ہے کہ تم اس کو سایہ سے ہٹاؤ اور اس کی جگہ لے لو، عبدالوہاب نے خالد سے روایت کیا کہ ہمارے سناروں اور ہماری قبروں کے لیے اس کی اجازت دے دیجئے۔



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment