Sunday, January 2, 2011

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:1964


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
خرید و فروخت کا بیان
باب
چوپایوں اور گدھوں کے خریدنے کا بیان
حدیث نمبر
1964
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ وَهْبِ بْنِ کَيْسَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ کُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ فَأَبْطَأَ بِي جَمَلِي وَأَعْيَا فَأَتَی عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ جَابِرٌ فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ مَا شَأْنُکَ قُلْتُ أَبْطَأَ عَلَيَّ جَمَلِي وَأَعْيَا فَتَخَلَّفْتُ فَنَزَلَ يَحْجُنُهُ بِمِحْجَنِهِ ثُمَّ قَالَ ارْکَبْ فَرَکِبْتُ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ أَکُفُّهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَزَوَّجْتَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ بِکْرًا أَمْ ثَيِّبًا قُلْتُ بَلْ ثَيِّبًا قَالَ أَفَلَا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُکَ قُلْتُ إِنَّ لِي أَخَوَاتٍ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ امْرَأَةً تَجْمَعُهُنَّ وَتَمْشُطُهُنَّ وَتَقُومُ عَلَيْهِنَّ قَالَ أَمَّا إِنَّکَ قَادِمٌ فَإِذَا قَدِمْتَ فَالْکَيْسَ الْکَيْسَ ثُمَّ قَالَ أَتَبِيعُ جَمَلَکَ قُلْتُ نَعَمْ فَاشْتَرَاهُ مِنِّي بِأُوقِيَّةٍ ثُمَّ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلِي وَقَدِمْتُ بِالْغَدَاةِ فَجِئْنَا إِلَی الْمَسْجِدِ فَوَجَدْتُهُ عَلَی بَابِ الْمَسْجِدِ قَالَ أَالْآنَ قَدِمْتَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَدَعْ جَمَلَکَ فَادْخُلْ فَصَلِّ رَکْعَتَيْنِ فَدَخَلْتُ فَصَلَّيْتُ فَأَمَرَ بِلَالًا أَنْ يَزِنَ لَهُ أُوقِيَّةً فَوَزَنَ لِي بِلَالٌ فَأَرْجَحَ لِي فِي الْمِيزَانِ فَانْطَلَقْتُ حَتَّی وَلَّيْتُ فَقَالَ ادْعُ لِي جَابِرًا قُلْتُ الْآنَ يَرُدُّ عَلَيَّ الْجَمَلَ وَلَمْ يَکُنْ شَيْئٌ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْهُ قَالَ خُذْ جَمَلَکَ وَلَکَ ثَمَنُهُ
محمد بن بشار، عبدالوہاب، عبیدﷲ بن کیسان، جابر بن عبدﷲ روایت کرتے ہیں کہ میں نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنگ میں تھا، میرے اونٹ نے دیر کی اور تھک گیا تو میرے پاس نبی صلی ﷲ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا- جابر! میں نے عرض کیا جی ہاں! آپ نے پوچھا کیا بات ہے؟ میں نے کہا کہ اونٹ پر چلا تھا اور تھک گیا، لہذا میں پیچھے رہ گیا آپ اترے اور اس کو ڈنڈے سے مارا پھر فرمایا کہ سوار ہو جا- میں سوار ہو گیا اس کی تیزی کے باعث میں اسے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے برابر پہنچنے سے روکنے لگا- آپ نے پوچھا کیا تونے نکاح کیا ہے؟ میں نے کہا ہاں! آپ نے فرمایا کہ باکرہ سے یا ثیبہ سے؟ میں نے کہا کہ ثیبہ سے- آپ نے فرمایا کہ کنواری عورت سے کیوں نہیں کیا، کہ تو اس کیساتھ کھیلتا وہ تیرے ساتھ کھیلتی، میں نے کہا کہ میری چند بہنیں ہیں لہذا میں نے چاہا کہ ایسی عورت سے شادی کروں جو ان کو جمع کرے اور ان کے سروں میں کنگھی کرے اور ان کی نگرانی کرے- آپ نے فرمایا کہ اب تم پہنچنے والے ہو، جب پہنچ جاؤ تو ہو شیاری سے کام لو- پھر فرمایا کہ اپنا اونٹ بیچتا ہے؟ میں نے عرض کیا ہاں، آپ نے مجھ سے اس کو ایک اوقیہ چاندی کے عوض خرید لیا، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم مجھ سے پہلے پہنچ گئے تو میں نے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کو مسجد کے دروازے پر پایا آپ نے فرمایا کہ تم اب آئے میں نے عرض کیا جی ہاں! آپ نے فرمایا کہ اپنا اونٹ چھوڑ دے اور اندر جا کر دو رکعت نماز پڑھ لے، میں مسجد میں گیا اور نماز پڑھی آپ نے بلال کو حکم دیا کہ میرے لئے ایک اوقیہ چاندی تول دیں- تو بلال رضی ﷲ عنہ نے جھکتی ہوئی چاندی تول دی، میں پیٹھ پھیر کر چلا تو آپ نے فرمایا میرے پاس جابر رضی ﷲ عنہ کو بلاؤ میں نے اپنے جی میں کہا آپ وہ اونٹ مجھ کو وہ اونٹ واپس کریں گے اور اس سے زیادہ ناگوار کوئی چیز میرے نزدیک نہ تھی آپ نے فرمایا کہ اپنا اونٹ لے لو اس کی قیمت بھی لے لو-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment