کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
شفعہ کا بیان
باب
اس شخص کا بیان جس نے کسی مزدور کو کام پر لگایا اور وہ اپنی اجرت چھوڑ کر چلا جائے۔
حدیث نمبر
2123
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ انْطَلَقَ ثَلَاثَةُ رَهْطٍ مِمَّنْ کَانَ قَبْلَکُمْ حَتَّی أَوَوْا الْمَبِيتَ إِلَی غَارٍ فَدَخَلُوهُ فَانْحَدَرَتْ صَخْرَةٌ مِنْ الْجَبَلِ فَسَدَّتْ عَلَيْهِمْ الْغَارَ فَقَالُوا إِنَّهُ لَا يُنْجِيکُمْ مِنْ هَذِهِ الصَّخْرَةِ إِلَّا أَنْ تَدْعُوا اللَّهَ بِصَالِحِ أَعْمَالِکُمْ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ اللَّهُمَّ کَانَ لِي أَبَوَانِ شَيْخَانِ کَبِيرَانِ وَکُنْتُ لَا أَغْبِقُ قَبْلَهُمَا أَهْلًا وَلَا مَالًا فَنَأَی بِي فِي طَلَبِ شَيْئٍ يَوْمًا فَلَمْ أُرِحْ عَلَيْهِمَا حَتَّی نَامَا فَحَلَبْتُ لَهُمَا غَبُوقَهُمَا فَوَجَدْتُهُمَا نَائِمَيْنِ وَکَرِهْتُ أَنْ أَغْبِقَ قَبْلَهُمَا أَهْلًا أَوْ مَالًا فَلَبِثْتُ وَالْقَدَحُ عَلَی يَدَيَّ أَنْتَظِرُ اسْتِيقَاظَهُمَا حَتَّی بَرَقَ الْفَجْرُ فَاسْتَيْقَظَا فَشَرِبَا غَبُوقَهُمَا اللَّهُمَّ إِنْ کُنْتُ فَعَلْتُ ذَلِکَ ابْتِغَائَ وَجْهِکَ فَفَرِّجْ عَنَّا مَا نَحْنُ فِيهِ مِنْ هَذِهِ الصَّخْرَةِ فَانْفَرَجَتْ شَيْئًا لَا يَسْتَطِيعُونَ الْخُرُوجَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ الْآخَرُ اللَّهُمَّ کَانَتْ لِي بِنْتُ عَمٍّ کَانَتْ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَيَّ فَأَرَدْتُهَا عَنْ نَفْسِهَا فَامْتَنَعَتْ مِنِّي حَتَّی أَلَمَّتْ بِهَا سَنَةٌ مِنْ السِّنِينَ فَجَائَتْنِي فَأَعْطَيْتُهَا عِشْرِينَ وَمِائَةَ دِينَارٍ عَلَی أَنْ تُخَلِّيَ بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِهَا فَفَعَلَتْ حَتَّی إِذَا قَدَرْتُ عَلَيْهَا قَالَتْ لَا أُحِلُّ لَکَ أَنْ تَفُضَّ الْخَاتَمَ إِلَّا بِحَقِّهِ فَتَحَرَّجْتُ مِنْ الْوُقُوعِ عَلَيْهَا فَانْصَرَفْتُ عَنْهَا وَهِيَ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ وَتَرَکْتُ الذَّهَبَ الَّذِي أَعْطَيْتُهَا اللَّهُمَّ إِنْ کُنْتُ فَعَلْتُ ابْتِغَائَ وَجْهِکَ فَافْرُجْ عَنَّا مَا نَحْنُ فِيهِ فَانْفَرَجَتْ الصَّخْرَةُ غَيْرَ أَنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ الْخُرُوجَ مِنْهَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ الثَّالِثُ اللَّهُمَّ إِنِّي اسْتَأْجَرْتُ أُجَرَائَ فَأَعْطَيْتُهُمْ أَجْرَهُمْ غَيْرَ رَجُلٍ وَاحِدٍ تَرَکَ الَّذِي لَهُ وَذَهَبَ فَثَمَّرْتُ أَجْرَهُ حَتَّی کَثُرَتْ مِنْهُ الْأَمْوَالُ فَجَائَنِي بَعْدَ حِينٍ فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ أَدِّ إِلَيَّ أَجْرِي فَقُلْتُ لَهُ کُلُّ مَا تَرَی مِنْ أَجْرِکَ مِنْ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ وَالرَّقِيقِ فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ لَا تَسْتَهْزِئُ بِي فَقُلْتُ إِنِّي لَا أَسْتَهْزِئُ بِکَ فَأَخَذَهُ کُلَّهُ فَاسْتَاقَهُ فَلَمْ يَتْرُکْ مِنْهُ شَيْئًا اللَّهُمَّ فَإِنْ کُنْتُ فَعَلْتُ ذَلِکَ ابْتِغَائَ وَجْهِکَ فَافْرُجْ عَنَّا مَا نَحْنُ فِيهِ فَانْفَرَجَتْ الصَّخْرَةُ فَخَرَجُوا يَمْشُونَ
ابو الیمان ، شعیب، زہری، سالم بن عبدﷲ بیان کرتے ہیں کہ عبدﷲ بن عمر نے کہا کہ میں نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ تم سے پہلی امت میں سے تین آدمی راستہ چل رہے تھے یہان تک کہ ایک غار میں رات کو پناہ لنیے کے لئے داخل ہوئے پہاڑ سے ایک چٹان آ کر گری جس نے غار کا منہ بند کر دیا ان لوگوں نے آپس میں کہنا شروع کیا کہ تم اس چٹان سے نجات نہیں پاسکتے بجز اس صورت کے کہ ﷲ سے اپنے بہترین عمل کے واسطہ سے دعا کرو اس میں سے ایک آدمی نہ کہا کہ اے ﷲ میرے والدین بہت بوڑھے تھے اور میں ان سے پہلے کسی کو دودھ نہ پلاتا تھا نہ بیوی بچوں کو اور نہ لونڈی غلاموں کو ایک دن کسی چیز کی تلاش میں میں بہت دور چلا گیا میں ان کے پاس اس وقت واپس ہوا کہ دونوں سو چکے تھے میں نے ان دونوں کے لئے دودھ دوہا تو میں نے انکو سویا ہو اپایا اور مجھے ناپسند تھا کہ ان سے پہلے بیوی بچوں یا لونڈی غلاموں کو پلاؤں چناچہ میں ٹھہرا رہا اور پیالہ میرے ہاتھ میں تھا میں ان کے جاگنے کا انتظار کر رہا تھا یہاں تک کہ صبح ہوگئی تو وہ بیدار ہوئے اور دودھ پیا اے میرے ﷲ اگر میں نے یہ صرف تیری رضا کی خاطر کیا ہے تو ہم سے اس مصیبت کو دور کر دے جس میں اس چٹان کے سبب سے ہم گرفتار ہیں وہ چٹان کچھ ہٹ گئی لیکن وہ نکل نہیں سکتے تھے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اور دوسرے نے کہا اے میرے ﷲ میری ایک چچا زاد بہن تھی وہ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب تھی میں اس سے برا کام چاہا لیکن وہ رکی رہی یعنی راضی نہ ہوئی یہاں تک کہ ایک سال سخت ضرورت سے دوچار ہوئی تو وہ میرے پاس آئی میں نے اسے ایک سو بیس دینار دئیے اس شرط پر کہ وہ میرے اور اپنی ذات کے درمیان حائل نہ ہو یعنی ہم بستر ہونے دے وہ راضی ہو گئی یہاں تک کہ جب میں اس پر قادر ہوا تو اس نے کہا کہ میں تجھے اس کی اجازت نہیں دیتی کہ تو مہر کو ناحق توڑے چناچہ میں نے اس سے ہم بستر ہونے کا گناہ سمجھا اور اس سے الگ ہو گیا حالانکہ وہ مجھ کو تمام لوگوں سے پیاری تھی اور میں نے وہ سونا بھی چھوڑ دیا جو اس کو میں نے دیا تھا اے میرے معبود اگر میں نے یہ صرف تیری رضا کے لئے کیا ہے تو ہم سے اس مصیبت کو دور کر جس میں ہم مبتلا ہیں تو چٹان کچھ ہٹ گئی لیکن باہر نہیں نکل سکتے تھے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اور تیسرے آدمی نے کہا کہ اے میرے ﷲ میں نے چند مزدور کام پر لگائے تھے میں نے ان کو ان کی مزدوری دی مگر ایک شخص اپنی مزدوری چھوڑ کر چلا گیا میں نے اس کی مزدوری کو بڑھانا شروع کیا یہاں تک کہ اس سے بہت زیادہ مال حاصل ہوا ایک مدت کے بعد وہ میرے پاس آیا اور کہا اے خدا کے بندے مجھے میری مزدوری دے میں نے کہا کہ یہ اونٹ گائے بکری اور غلام جو کچھ تو دیکھ رہا ہے یہ سب تیرے ہیں اس نے کہا اے خدا کے بندے تو مجھ سے مذاق نہ کر میں نے کہا میں تجھ سے مذاق نہیں کرتا چناچہ اس نے ساری چیزیں لے لیں اور چلا گیا اس میں سے کچھ بھی نہ چھوڑا اے میرے ﷲ اگر میں نے یہ کام صرف تیری رضا کی خاطر کیا تھا تو ہم سے اس مصیبت کو دور کر جس میں ہم مبتلا ہیں چناچہ وہ چٹان ہٹ گئی اور وہ لوگ باہر نکل کر چلنے لگے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment