Tuesday, February 1, 2011

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:2139


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
حوالہ کا بیان
باب
اگر میت کا قرض کسی آدمی کی طرف منتقل کر دے تو جائز ہے۔
حدیث نمبر
2139
حَدَّثَنَا الْمَکِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أُتِيَ بِجَنَازَةٍ فَقَالُوا صَلِّ عَلَيْهَا فَقَالَ هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ قَالُوا لَا قَالَ فَهَلْ تَرَکَ شَيْئًا قَالُوا لَا فَصَلَّی عَلَيْهِ ثُمَّ أُتِيَ بِجَنَازَةٍ أُخْرَی فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلِّ عَلَيْهَا قَالَ هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ قِيلَ نَعَمْ قَالَ فَهَلْ تَرَکَ شَيْئًا قَالُوا ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ فَصَلَّی عَلَيْهَا ثُمَّ أُتِيَ بِالثَّالِثَةِ فَقَالُوا صَلِّ عَلَيْهَا قَالَ هَلْ تَرَکَ شَيْئًا قَالُوا لَا قَالَ فَهَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ قَالُوا ثَلَاثَةُ دَنَانِيرَ قَالَ صَلُّوا عَلَی صَاحِبِکُمْ قَالَ أَبُو قَتَادَةَ صَلِّ عَلَيْهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَعَلَيَّ دَيْنُهُ فَصَلَّی عَلَيْهِ
مکی بن ابراہیم، یزید بن ابی عبید، سلمہ بن اکوع سے روایت ہے کہ ہم نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اس اثناء میں ایک جنازہ لایا گیا لوگوں نے عرض کیا اس پر نماز پڑھ دیں- آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس پر کوئی قرض ہے؟ ہم نے کہا نہیں آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی پھر ایک دوسرا جنازہ لایا گیا، لوگوں نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اس پر نماز پڑھ دیں آپ نے فرمایا کیا اس پر کوئی قرض ہے؟ لوگوں نے جواب دیا ہاں آپ نے فرمایا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے لوگوں نے کہا تین دینار تو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی پھر ایک تیسرا جنازہ لایا گیا تو لوگوں نے عرض کیا، آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اس پر نماز پڑھ دیں آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے؟ لوگوں نے کہا نہیں آپ نے فرمایا اس پر قرض ہے؟ لوگوں نے کہا تین دینار آپ نے فرمایا تم اپنے ساتھی پر نماز پڑھ لو ابوقتادہ نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اس پر نماز پڑھیں میں اس کے قرض کا ذمہ دار ہوں چناچہ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر نماز جنا زہ پڑھی-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment