کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
حوالہ کا بیان
باب
جو شخص مردے کی طرف سے قرض کی ضمانت لے تو اس کو رجوع کرنے کا اختیار نہیں ہے
حدیث نمبر
2143
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِجَنَازَةٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا فَقَالَ هَلْ عَلَيْهِ مِنْ دَيْنٍ قَالُوا لَا فَصَلَّی عَلَيْهِ ثُمَّ أُتِيَ بِجَنَازَةٍ أُخْرَی فَقَالَ هَلْ عَلَيْهِ مِنْ دَيْنٍ قَالُوا نَعَمْ قَالَ صَلُّوا عَلَی صَاحِبِکُمْ قَالَ أَبُو قَتَادَةَ عَلَيَّ دَيْنُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَصَلَّی عَلَيْهِ
ابو عاصم، یزید، بن ابی عبید، سلمہ بن اکوع سے روایت ہے کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک جنا زہ لایا گیا تاکہ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اس پر نماز پڑھیں تو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کیا اس پر کوئی قرض ہے؟ لوگوں نے کہا نہیں تو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی پھر ایک دوسرا جنازہ لایا گیا تو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا اس پر کوئی قرض ہے؟ لوگوں نے کہا، ہاں آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اپنے ساتھی پر نماز پڑھو ابوقتادہ نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم میں اس کے قرض کا ذمہ دار ہوں، تو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment