کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
حوالہ کا بیان
باب
نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو مشرک کے امن دینے اور اس کے عہد کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر
2145
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَمْ أَعْقِلْ أَبَوَيَّ قَطُّ إِلَّا وَهُمَا يَدِينَانِ الدِّينَ وَقَالَ أَبُو صَالِحٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ عَنْ يُونُسَ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمْ أَعْقِلْ أَبَوَيَّ قَطُّ إِلَّا وَهُمَا يَدِينَانِ الدِّينَ وَلَمْ يَمُرَّ عَلَيْنَا يَوْمٌ إِلَّا يَأْتِينَا فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَفَيْ النَّهَارِ بُکْرَةً وَعَشِيَّةً فَلَمَّا ابْتُلِيَ الْمُسْلِمُونَ خَرَجَ أَبُو بَکْرٍ مُهَاجِرًا قِبَلَ الْحَبَشَةِ حَتَّی إِذَا بَلَغَ بَرْکَ الْغِمَادِ لَقِيَهُ ابْنُ الدَّغِنَةِ وَهُوَ سَيِّدُ الْقَارَةِ فَقَالَ أَيْنَ تُرِيدُ يَا أَبَا بَکْرٍ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ أَخْرَجَنِي قَوْمِي فَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَسِيحَ فِي الْأَرْضِ فَأَعْبُدَ رَبِّي قَالَ ابْنُ الدَّغِنَةِ إِنَّ مِثْلَکَ لَا يَخْرُجُ وَلَا يُخْرَجُ فَإِنَّکَ تَکْسِبُ الْمَعْدُومَ وَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَحْمِلُ الْکَلَّ وَتَقْرِي الضَّيْفَ وَتُعِينُ عَلَی نَوَائِبِ الْحَقِّ وَأَنَا لَکَ جَارٌ فَارْجِعْ فَاعْبُدْ رَبَّکَ بِبِلَادِکَ فَارْتَحَلَ ابْنُ الدَّغِنَةِ فَرَجَعَ مَعَ أَبِي بَکْرٍ فَطَافَ فِي أَشْرَافِ کُفَّارِ قُرَيْشٍ فَقَالَ لَهُمْ إِنَّ أَبَا بَکْرٍ لَا يَخْرُجُ مِثْلُهُ وَلَا يُخْرَجُ أَتُخْرِجُونَ رَجُلًا يُکْسِبُ الْمَعْدُومَ وَيَصِلُ الرَّحِمَ وَيَحْمِلُ الْکَلَّ وَيَقْرِي الضَّيْفَ وَيُعِينُ عَلَی نَوَائِبِ الْحَقِّ فَأَنْفَذَتْ قُرَيْشٌ جِوَارَ ابْنِ الدَّغِنَةِ وَآمَنُوا أَبَا بَکْرٍ وَقَالُوا لِابْنِ الدَّغِنَةِ مُرْ أَبَا بَکْرٍ فَلْيَعْبُدْ رَبَّهُ فِي دَارِهِ فَلْيُصَلِّ وَلْيَقْرَأْ مَا شَائَ وَلَا يُؤْذِينَا بِذَلِکَ وَلَا يَسْتَعْلِنْ بِهِ فَإِنَّا قَدْ خَشِينَا أَنْ يَفْتِنَ أَبْنَائَنَا وَنِسَائَنَا قَالَ ذَلِکَ ابْنُ الدَّغِنَةِ لِأَبِي بَکْرٍ فَطَفِقَ أَبُو بَکْرٍ يَعْبُدُ رَبَّهُ فِي دَارِهِ وَلَا يَسْتَعْلِنُ بِالصَّلَاةِ وَلَا الْقِرَائَةِ فِي غَيْرِ دَارِهِ ثُمَّ بَدَا لِأَبِي بَکْرٍ فَابْتَنَی مَسْجِدًا بِفِنَائِ دَارِهِ وَبَرَزَ فَکَانَ يُصَلِّي فِيهِ وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَيَتَقَصَّفُ عَلَيْهِ نِسَائُ الْمُشْرِکِينَ وَأَبْنَاؤُهُمْ يَعْجَبُونَ وَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ وَکَانَ أَبُو بَکْرٍ رَجُلًا بَکَّائً لَا يَمْلِکُ دَمْعَهُ حِينَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَأَفْزَعَ ذَلِکَ أَشْرَافَ قُرَيْشٍ مِنْ الْمُشْرِکِينَ فَأَرْسَلُوا إِلَی ابْنِ الدَّغِنَةِ فَقَدِمَ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا لَهُ إِنَّا کُنَّا أَجَرْنَا أَبَا بَکْرٍ عَلَی أَنْ يَعْبُدَ رَبَّهُ فِي دَارِهِ وَإِنَّهُ جَاوَزَ ذَلِکَ فَابْتَنَی مَسْجِدًا بِفِنَائِ دَارِهِ وَأَعْلَنَ الصَّلَاةَ وَالْقِرَائَةَ وَقَدْ خَشِينَا أَنْ يَفْتِنَ أَبْنَائَنَا وَنِسَائَنَا فَأْتِهِ فَإِنْ أَحَبَّ أَنْ يَقْتَصِرَ عَلَی أَنْ يَعْبُدَ رَبَّهُ فِي دَارِهِ فَعَلَ وَإِنْ أَبَی إِلَّا أَنْ يُعْلِنَ ذَلِکَ فَسَلْهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْکَ ذِمَّتَکَ فَإِنَّا کَرِهْنَا أَنْ نُخْفِرَکَ وَلَسْنَا مُقِرِّينَ لِأَبِي بَکْرٍ الِاسْتِعْلَانَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَتَی ابْنُ الدَّغِنَةِ أَبَا بَکْرٍ فَقَالَ قَدْ عَلِمْتَ الَّذِي عَقَدْتُ لَکَ عَلَيْهِ فَإِمَّا أَنْ تَقْتَصِرَ عَلَی ذَلِکَ وَإِمَّا أَنْ تَرُدَّ إِلَيَّ ذِمَّتِي فَإِنِّي لَا أُحِبُّ أَنْ تَسْمَعَ الْعَرَبُ أَنِّي أُخْفِرْتُ فِي رَجُلٍ عَقَدْتُ لَهُ قَالَ أَبُو بَکْرٍ إِنِّي أَرُدُّ إِلَيْکَ جِوَارَکَ وَأَرْضَی بِجِوَارِ اللَّهِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ بِمَکَّةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُرِيتُ دَارَ هِجْرَتِکُمْ رَأَيْتُ سَبْخَةً ذَاتَ نَخْلٍ بَيْنَ لَابَتَيْنِ وَهُمَا الْحَرَّتَانِ فَهَاجَرَ مَنْ هَاجَرَ قِبَلَ الْمَدِينَةِ حِينَ ذَکَرَ ذَلِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَعَ إِلَی الْمَدِينَةِ بَعْضُ مَنْ کَانَ هَاجَرَ إِلَی أَرْضِ الْحَبَشَةِ وَتَجَهَّزَ أَبُو بَکْرٍ مُهَاجِرًا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی رِسْلِکَ فَإِنِّي أَرْجُو أَنْ يُؤْذَنَ لِي قَالَ أَبُو بَکْرٍ هَلْ تَرْجُو ذَلِکَ بِأَبِي أَنْتَ قَالَ نَعَمْ فَحَبَسَ أَبُو بَکْرٍ نَفْسَهُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَصْحَبَهُ وَعَلَفَ رَاحِلَتَيْنِ کَانَتَا عِنْدَهُ وَرَقَ السَّمُرِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ
یحیی بن بکیر، لیث، عقیل، ابن شہاب، عروہ بن زبیر روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا زوجہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے بیان کیا کہ میں نے جب ہوش سنبھالا تو اپنے والدین کو دین حق پر ہی پایا اور ابوصالح نے بیان کیا کہ مجھ سے عبدﷲ نے بواسطہ یونس زہری، عروہ بن زبیر نے نقل کیا کہ عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ میں نے اپنے والدین کو جب سے میں نے ہوش سنبھالا دین (اسلام) پر ہی پایا اور کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا کہ صبح و شام رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس نہ آتے ہوں، جب مسلمان سخت آزمائش (تکلیف) میں تھے تو ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کے لئے نکلے جب برک غماد پہنچے تو ان سے قارہ کے سردار ابن دغنہ کی ملاقات ہوئی اس نے پوچھا ابوبکر کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ مجھ کو میری قوم نے نکال دیا اس لئے میں چاہتا ہوں کہ زمین کی سیر کروں اور اپنے پروردگار کی عبادت کروں، ابن دغنہ نے کہا کہ تم جیسا آدمی نہ تو نکل سکتا ہے اور نہ نکلا جا سکتا ہے اس لئے کہ تم بے مال والوں کے لئے کماتے ہو، صلہ رحمی کرتے ہو اور عاجز و مجبور کا بوجھ اٹھا تے، مہمان کی ضیافت کرتے ہو اور حق (پر قائم رہنے) کی وجہ سے آنے والی مصیبت پر مدد کرتے ہو میں تمہارا پڑوسی ہوں تم لوٹ چلو اور اپنے ملک میں اپنے رب کی عبادت کرو، چناچہ ابن دغنہ روانہ ہوا تو ابوبکر کو ساتھ لے کر واپس ہوا اور کفار قریش کے سرداروں میں گھوما اور ان سے کہا کہ ابوبکر جیسا آدمی نہ تو نکل سکتا ہے نہ نکالا جا سکتا ہے جو تنگدستوں کے لئے کماتا ہے صلہ رحمی کرتا ہے، عاجزوں کا بوجھ اٹھا تا ہے، مہمان کی مہمان نوازی کرتا ہے، راہ حق میں پیش آنے والی مصیبت میں مدد کرتا ہے چناچہ قریش نے ابن دغنہ کی پناہ منظور کر لی اور ابوبکر کو امان دے کر ابن دغنہ سے کہا کہ ابوبکر کو کہہ دو کہ اپنے رب کی عبادت اپنے گھر میں کریں، نماز پڑھیں، لیکن ہمیں تکلیف نہ دیں اور نہ اس کا اعلان کریں، اس لئے کہ ہمیں خطرہ ہے کہ ہمارے بچے اور عورتیں فتنہ میں مبتلا نہ ہو جائیں- ابن دغنہ نے ابوبکر سے یہ کہہ دیا، چناچہ ابوبکر اپنے گھر میں اپنے رب کی عبادت کرنے لگے اور نہ تو نماز اعلانیہ پڑھتے اور نہ قرات اعلانیہ کرتے پھر ابوبکر کے دل میں کچھ خیال پیدا ہوا، تو انہوں نے اپنے گھر کے صحن میں ایک مسجد بنا لی اور باہر نکل کر وہاں نماز اور قرآن پڑھنے لگے، تو مشرکین کی عورتیں اور بچے ان کے پاس جمع ہو جاتے، ان لوگوں کو اچھا معلوم ہوتا، اور ابوبکر کو دیکھتے رہتے ابوبکر ایسے آدمی تھے کہ بہت روتے اور جب قرآن پڑھتے تو انہیں آنسوؤں پر اختیار نہیں رہتا تھا، مشرکین قریش کے سردار گھبر ائے اور ابن دغنہ کو بلا بھیجا وہ ان کے پاس آیا تو انہوں نے ابن دغنہ سے کہا کہ ہم نے ابوبکر کو اس شرط پر امان دی تھی کہ وہ اپنے گھر میں اپنے پروردگار کی عبادت کریں، لیکن انہوں نے اس سے تجاوز کیا اور اپنے گھر کے صحن میں مسجد بنالی- اعلانیہ نماز اور قرآن پڑھنے لگے اور ہمیں خطرہ ہے کہ ہمارے بچے اور ہماری عورتیں گمراہ نہ ہو جائیں اس لئے ان کے پاس جا کر کہو کہ اگر وہ اپنے گھر کے اندر اپنے رب کی عبادت پر اکتفا کرتے ہیں تو کریں اور اگر اس کو اعلانیہ کرنے سے انکار کریں تو ان سے کہو کہ تمہارا ذمہ واپس کر دیں، اس لئے کہ ہمیں پسند نہیں کہ ہم تمہاری امان کو توڑیں اور نہ ہم ابوبکر کو اعلانیہ عبادت کرنے پر قائم رہنے دے سکتے ہیں، حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ ابن دغنہ ابوبکر کے پاس آیا اور کہا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے تمہارا ذمہ ایک شرط پر لیا تھا، یا تو اسی پر اکتفا کرو یا میرا ذمہ مجھے واپس کر دو، اس لئے کہ میں یہ نہیں چاہتا کہ عرب اس بات کو سنیں کہ میں نے ایک شخص کو اپنے ذمہ میں لیا تھا، اور میرا ذمہ توڑا گیا، ابوبکر نے جواب دیا کہ میں تیرا ذمہ تجھے واپس دیتا ہوں اور ﷲ کی پناہ پر راضی ہوں اس زمانہ میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم مکہ ہی میں تھے آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے تمہا ری ہجرت کا مقام دکھا یا گیا ہے، میں نے ایک کھاری زمین دیکھی، جہاں کھجوروں کے درخت ہیں اور دو پتھر یلے کناروں کے درمیان ہے جب یہ بات رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے بیان کی، جس نے بھی ہجرت کی مدینہ ہی کی طرف کی اور جو لوگ حبشہ کی طرف ہجرت کر چکے تھے وہ بھی مدینہ کی طرف ہجرت کر کے چلے گئے اور ابوبکر نے بھی ہجرت کی تیاری کی، تو ان سے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم ٹھہرو مجھے امید ہے کہ مجھے بھی ہجرت کا حکم ہو گا، ابوبکر نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں کیا آپ کو امید ہے کہ اس کی اجازت ملے گی؟ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، ہاں ابوبکر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کیساتھ چلنے کے لئے رک گئے اور دو اونٹ جو ان کے پاس تھے ان کو چار مہینے تک سمر کے پتے کھلاتے رہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment