کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
حوالہ کا بیان
باب
قرض کا بیان۔
حدیث نمبر
2146
حدثنا يحيی بن بکير ثنا الليث عن عقيل عن ابن شهاب عن ابي سلمة بن عبد الرحمن عن ابي هريرة ان رسول لله صلي الله عليه وسلم کان يؤتي بالرجل المتوفي عليه الدين فيسأل هل ترک لدينه فضلا فان حدث انه ترک لدينه وفائ صلی والا قال للمسلمين صلوا علی صاحبکم فلما فتح الله عليه الفتوح قال انا اولی بالمؤمنين من انفسهم فمن توفی من المؤمنين فترک دينا فعلي قضاؤه ومن ترک مالا فلورثته
یحیی بن بکیر، لیث، عقیل، ابن شہاب، ابوسلمہ، ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جب جنازہ لایا جاتا، تو آٓپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم پہلے دریافت فرماتے کہ کیا اس نے اپنے اوپر قرض کے لئے کچھ زیادہ مال چھوڑا ہے؟ اگر لوگ بیان کرتے کہ اس نے انپے قرض کی ادائیگی کیلئے کچھ چھوڑا ہے، تو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اس پر نماز پڑھتے ورنہ کہہ دیتے کہ تم اپنے ساتھی پر نماز پڑھ لو، جب ﷲ تعالی نے فتح کا دروازہ کھول دیا، تو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں مسلمانوں کا خود ان کی ذات سے بھی زیادہ خیر خواہ ہوں، جو مسلمان مر جائے اور قرض چھوڑ جائے تو اس کا ادا کرنا میرے ذمہ ہے اور جس نے مال چھوڑا وہ اس کے وارثوں کا حق ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment