کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
گواہیوں کا بیان
باب
کسی کی تعریف میں مبالغہ سے کام لینا مکروہ ہے بلکہ جس قدر جانتا ہو اتنا ہی کہے۔
حدیث نمبر
2480
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَبَّاحٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَکَرِيَّائَ حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُثْنِي عَلَی رَجُلٍ وَيُطْرِيهِ فِي مَدْحِهِ فَقَالَ أَهْلَکْتُمْ أَوْ قَطَعْتُمْ ظَهَرَ الرَّجُلِ
محمد بن صباح اسمٰعیل بن زکریا برید بن عبدﷲ ابوموسیٰ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ایک آدمی کی تعریف کرتے ہوئے سنا اور وہ اس کی تعریف میں مبالغہ سے کام لے رہا تھا آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے ہلاک کردیا یا تم نے اس آدمی کی پیٹھ توڑ ڈالی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment