حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ رَجُلٌ لِلْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَفَرَرْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَالَ لَکِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَفِرَّ إِنَّ هَوَازِنَ کَانُوا قَوْمًا رُمَاةً وَإِنَّا لَمَّا لَقِينَاهُمْ حَمَلْنَا عَلَيْهِمْ فَانْهَزَمُوا فَأَقْبَلَ الْمُسْلِمُونَ عَلَی الْغَنَائِمِ وَاسْتَقْبَلُونَا بِالسِّهَامِ فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَفِرَّ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ وَإِنَّهُ لَعَلَی بَغْلَتِهِ الْبَيْضَائِ وَإِنَّ أَبَا سُفْيَانَ آخِذٌ بِلِجَامِهَا وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَنَا النَّبِيُّ لَا کَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ
قتبیہ، سہل بن یوسف شعبہ، ابواسحق سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے براء بن عازب سے پوچھا کیا، تم لوگ حنین کی جنگ میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے، کہا ہاں ایسا ہوا تو ہے، لیکن رسول ﷲ اپنی جگہ پر ثابت قدم رہے اس کی وجہ یہ ہوئی کہ قبیلہ ہوازن کے لوگ بڑے تیرانداز تھے، ہم نے جب ان سے مقابلہ کیا اور ان پر حملہ کیا، تو وہ بھاگ نکلے پھر مسلمان غنیمتوں پر جھک پڑے، اور کافروں نے تیروں سے ہمارے سینوں کو چھید نا شروع کردیا، اور ہم لوگوں کو پیچھے ہٹا دیا، مگر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم جمے رہے، میں نے دیکھا کہ آپ اپنے سفید خچر پر سوار تھے، اور ابوسفیان ان کی لگام پکڑے ہوئے تھے، اور آپ فرماتے جاتے تھے، أَنَا النَّبِيُّ لَا کَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ (میں بنی ہوں اور اس میں کچھ جھوٹ نہیں میں عبدا لمطلب جیسے سردار کا بیٹا ہوں)
کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = جہاداورسیرت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم
باب = میدان جنگ سے دوسرے جانور کو ہنکا کر لے جانے کا بیان۔
جلد نمبر 2
جلد کے لہاظ سے حدیث نمبر 128
ٹوٹل حدیث نمبر 2664
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
قتبیہ، سہل بن یوسف شعبہ، ابواسحق سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے براء بن عازب سے پوچھا کیا، تم لوگ حنین کی جنگ میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے، کہا ہاں ایسا ہوا تو ہے، لیکن رسول ﷲ اپنی جگہ پر ثابت قدم رہے اس کی وجہ یہ ہوئی کہ قبیلہ ہوازن کے لوگ بڑے تیرانداز تھے، ہم نے جب ان سے مقابلہ کیا اور ان پر حملہ کیا، تو وہ بھاگ نکلے پھر مسلمان غنیمتوں پر جھک پڑے، اور کافروں نے تیروں سے ہمارے سینوں کو چھید نا شروع کردیا، اور ہم لوگوں کو پیچھے ہٹا دیا، مگر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم جمے رہے، میں نے دیکھا کہ آپ اپنے سفید خچر پر سوار تھے، اور ابوسفیان ان کی لگام پکڑے ہوئے تھے، اور آپ فرماتے جاتے تھے، أَنَا النَّبِيُّ لَا کَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ (میں بنی ہوں اور اس میں کچھ جھوٹ نہیں میں عبدا لمطلب جیسے سردار کا بیٹا ہوں)
کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = جہاداورسیرت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم
باب = میدان جنگ سے دوسرے جانور کو ہنکا کر لے جانے کا بیان۔
جلد نمبر 2
جلد کے لہاظ سے حدیث نمبر 128
ٹوٹل حدیث نمبر 2664
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment