حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَزِعُوا مَرَّةً فَرَکِبَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ کَانَ يَقْطِفُ أَوْ کَانَ فِيهِ قِطَافٌ فَلَمَّا رَجَعَ قَالَ وَجَدْنَا فَرَسَکُمْ هَذَا بَحْرًا فَکَانَ بَعْدَ ذَلِکَ لَا يُجَارَی
عبدالاعلیٰ بن حماد، یزید بن زریع، سعید، قتادہ، حضرت انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ والوں کو حریفوں کا کچھ خوف پیدا ہوگیا تھا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ابوطلحہ کے گھوڑے پر سوار ہوگئے جو بہت سست چلتا تھا یایہ کہ اس میں سستی تھی، پھر آپ جب لوٹے، تو فرمایا کہ ہم نے تمہارے اس گھوڑے کو دریا کی طرح سبک رو پایا، پھر وہ گھوڑا اس کے بعد ایسا ہوگیا، کہ کوئی گھوڑا اس سے سبقت نہ لے جاتا تھا
کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = جہاداورسیرت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم
باب = سست رفتار گھوڑے کا بیان
جلد نمبر 2
جلد کے لہاظ سے حدیث نمبر
ٹوٹل حدیث نمبر 2667
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
عبدالاعلیٰ بن حماد، یزید بن زریع، سعید، قتادہ، حضرت انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ والوں کو حریفوں کا کچھ خوف پیدا ہوگیا تھا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ابوطلحہ کے گھوڑے پر سوار ہوگئے جو بہت سست چلتا تھا یایہ کہ اس میں سستی تھی، پھر آپ جب لوٹے، تو فرمایا کہ ہم نے تمہارے اس گھوڑے کو دریا کی طرح سبک رو پایا، پھر وہ گھوڑا اس کے بعد ایسا ہوگیا، کہ کوئی گھوڑا اس سے سبقت نہ لے جاتا تھا
کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = جہاداورسیرت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم
باب = سست رفتار گھوڑے کا بیان
جلد نمبر 2
جلد کے لہاظ سے حدیث نمبر
ٹوٹل حدیث نمبر 2667
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment