Saturday, May 7, 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1439,TotalNo:3975


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
غزوات کا بیان
باب
یہ باب عنوان سے خالی ہے
حدیث نمبر
3975
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ قَالَ قَالَ لِي أَبُو قِلَابَةَ أَلَا تَلْقَاهُ فَتَسْأَلَهُ قَالَ فَلَقِيتُهُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ کُنَّا بِمَائٍ مَمَرَّ النَّاسِ وَکَانَ يَمُرُّ بِنَا الرُّکْبَانُ فَنَسْأَلُهُمْ مَا لِلنَّاسِ مَا لِلنَّاسِ مَا هَذَا الرَّجُلُ فَيَقُولُونَ يَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَرْسَلَهُ أَوْحَی إِلَيْهِ أَوْ أَوْحَی اللَّهُ بِکَذَا فَکُنْتُ أَحْفَظُ ذَلِکَ الْکَلَامَ وَکَأَنَّمَا يُقَرُّ فِي صَدْرِي وَکَانَتْ الْعَرَبُ تَلَوَّمُ بِإِسْلَامِهِمْ الْفَتْحَ فَيَقُولُونَ اتْرُکُوهُ وَقَوْمَهُ فَإِنَّهُ إِنْ ظَهَرَ عَلَيْهِمْ فَهُوَ نَبِيٌّ صَادِقٌ فَلَمَّا کَانَتْ وَقْعَةُ أَهْلِ الْفَتْحِ بَادَرَ کُلُّ قَوْمٍ بِإِسْلَامِهِمْ وَبَدَرَ أَبِي قَوْمِي بِإِسْلَامِهِمْ فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ جِئْتُکُمْ وَاللَّهِ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا فَقَالَ صَلُّوا صَلَاةَ کَذَا فِي حِينِ کَذَا وَصَلُّوا صَلَاةَ کَذَا فِي حِينِ کَذَا فَإِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ أَحَدُکُمْ وَلْيَؤُمَّکُمْ أَکْثَرُکُمْ قُرْآنًا فَنَظَرُوا فَلَمْ يَکُنْ أَحَدٌ أَکْثَرَ قُرْآنًا مِنِّي لِمَا کُنْتُ أَتَلَقَّی مِنْ الرُّکْبَانِ فَقَدَّمُونِي بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَأَنَا ابْنُ سِتٍّ أَوْ سَبْعِ سِنِينَ وَکَانَتْ عَلَيَّ بُرْدَةٌ کُنْتُ إِذَا سَجَدْتُ تَقَلَّصَتْ عَنِّي فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنْ الْحَيِّ أَلَا تُغَطُّوا عَنَّا اسْتَ قَارِئِکُمْ فَاشْتَزَوْا فَقَطَعُوا لِي قَمِيصًا فَمَا فَرِحْتُ بِشَيْئٍ فَرَحِي بِذَلِکَ الْقَمِيصِ
سلیمان بن حرب، حماد بن زید، ایوب، ابوقلابہ، عمرو بن سلمہ سے مروی ہے ایوب کہتے ہیں کہ مجھ سے ابوقلابہ نے کہا کہ تو عمرو بن سلمہ سے مل کر کیوں نہیں پوچھتا وہ کہتے ہیں کہ میں ان سے ملا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم ایک چشمہ پر جہاں لوگوں کی گزرگاہ تھی رہتے تھے ہمارے پاس سے قافلے گزرتے تھے تو ہم ان قافلوں سے پوچھتے تھے کہ لوگوں کا کیا حال ہے؟ اور (مدعی نبوت) آدمی کی کیا حالت ہے؟ تو وہ جواب دیتے کہ وہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ ﷲ کا رسول ہے؟ جس کی طرف وحی ہوتی ہے یا یہ کہا کہ ﷲ اسے یہ وحی بھیجتا ہے، میں وہ کلام یاد کرلیا کرتا، گویا وہ میرے سینہ میں محفوظ ہے اور اہل عرب اپنے اسلام لانے میں فتح مکہ کا انتظار کرتے تھے اور یہ کہتے کہ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی قوم (قریش) کو مٹنے دو اگر آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم غالب آ گئے تو آپ سچے نبی ہیں چناچہ جب فتح مکہ کا واقعہ ہوا تو ہر قوم نے اسلام لانے میں سبقت کی اور میرے والد بھی اپنی قوم کے مسلمان ہونے میں جلدی کرنے لگے اور مسلمانوں سے جب واپس آئے تو کہا ﷲ کی قسم! میں تمہارے پاس نبی برحق صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے آیا ہوں انہوں نے فرمایا ہے کہ فلاں فلاں وقت ایسے ایسے نماز پڑھو،جب نماز کا وقت آ جائے تو ایک آدمی اذان کہے اور جسے قرآن زیادہ یاد ہو وہ امام بنے چونکہ میں قافلہ والوں سے قرآن سیکھ کر یاد کرلیتا تھا اس لئے ان میں کسی کو بھی مجھ سے زیادہ قرآن یاد نہ تھا، میں 6 یا7 سال کا تھا کہ انہوں نے مجھے (امامت کے لئے) آگے بڑھا دیا اور میرے جسم پر ایک چادر تھی جب میں سجدہ کرتا تو وہ اوپر چڑھ جاتی (اور جسم ظاہر ہوجاتا) تو قبیلہ کی ایک عورت نے کہا تم اپنے قاری (امام) کی سرین ہم سے کیوں نہیں چھپاتے؟ تو انہوں نے کپڑا خرید کر میرے لئے ایک قمیص بنا دی تو میں اتنا کسی چیز سے خوش نہیں ہوا جتنا اس قمیص سے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment