Saturday, May 7, 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1344,TotalNo:3880


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
غزوات کا بیان
باب
جنگ حدیبیہ کا قصہ
حدیث نمبر
3880
حَدَّثَنِي شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ سَمِعَ النَّضْرَ بْنَ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا صَخْرٌ عَنْ نَافِعٍ قَالَ إِنَّ النَّاسَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَسْلَمَ قَبْلَ عُمَرَ وَلَيْسَ کَذَلِکَ وَلَکِنْ عُمَرُ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَرْسَلَ عَبْدَ اللَّهِ إِلَی فَرَسٍ لَهُ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ يَأْتِي بِهِ لِيُقَاتِلَ عَلَيْهِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ عِنْدَ الشَّجَرَةِ وَعُمَرُ لَا يَدْرِي بِذَلِکَ فَبَايَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ ثُمَّ ذَهَبَ إِلَی الْفَرَسِ فَجَائَ بِهِ إِلَی عُمَرَ وَعُمَرُ يَسْتَلْئِمُ لِلْقِتَالِ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ تَحْتَ الشَّجَرَةِ قَالَ فَانْطَلَقَ فَذَهَبَ مَعَهُ حَتَّی بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهِيَ الَّتِي يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَسْلَمَ قَبْلَ عُمَرَ وَقَالَ هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّاسَ کَانُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ تَفَرَّقُوا فِي ظِلَالِ الشَّجَرِ فَإِذَا النَّاسُ مُحْدِقُونَ بِالنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ انْظُرْ مَا شَأْنُ النَّاسِ قَدْ أَحْدَقُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَهُمْ يُبَايِعُونَ فَبَايَعَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَی عُمَرَ فَخَرَجَ فَبَايَعَ
شجاع بن ولید، نضر بن محمد، صخر بن جویریہ، حضرت نافع سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ عبدﷲ بن عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے پہلے اسلام لائے یہ درست نہیں ہے بلکہ بات یہ ہے کہ حدیبیہ کے روز حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنے بیٹے حضرت عبدﷲ کو ایک انصاری کے پاس اس لئے بھیجا کہ وہ ان سے ان کا گھوڑا لے کر آئیں تاکہ اس پر بیٹھ کر کافروں سے جہاد کیا جائے اس وقت حضور اکرم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اصحاب رضی ﷲ تعالیٰ عنہم سے درخت کے تلے بیعت لے رہے تھے حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو اس کی خبر نہیں تھی عبدﷲ رسول اکرم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کرکے گھوڑا لینے گئے اور پھر حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے پاس گھوڑا لئے ہوئے آئے حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ ہتھیار لگا رہے تھے عبدﷲ رضی ﷲ عنہ نے ان سے یہ بات بیان کی تو وہ عبدﷲ رضی ﷲ عنہ کو ساتھ لئے ہوئے گئے اور آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے جا کر بیعت کی یہ ہے وہ بات جس کی وجہ سے لوگ یہ کہتے ہیں کہ عبدﷲ، حضرت عمر رضی ﷲ عنہ سے پہلے اسلام لائے ہیں- (دوسری سند) ہشام بن عمار، ولید بن مسلم، عمر بن محمد عمری، حضرت نافع سے روایت کرتے ہیں اور وہ حضرت ابن عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ حدیبیہ کے روز آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ الگ الگ درختوں کے سایہ میں ٹھہرے ہوئے تھے اچانک نظر آیا کہ لوگ حضور اکرم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے گرد جمع ہیں حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے (اپنے بیٹے) عبدﷲ رضی ﷲ عنہ سے کہا ذرا جا کردیکھو کہ یہ لوگ کیوں جمع ہیں اور آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو کس لئے گھیرے ہوئے ہیں وہ گئے اور دیکھا کہ لوگ آپ سے بیعت کر رہے چناچہ عبدﷲ رضی ﷲ عنہ سے بھی بیعت کرلی پھر واپس آکر حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو خبر دی تو آپ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ بھی گئے اور بیعت کر لی-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment