کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
غزوات کا بیان
باب
جنگ حدیبیہ کا قصہ
حدیث نمبر
3879
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا کَلَّمَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ح و حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ بَعْضَ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَهُ لَوْ أَقَمْتَ الْعَامَ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ لَا تَصِلَ إِلَی الْبَيْتِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَالَ کُفَّارُ قُرَيْشٍ دُونَ الْبَيْتِ فَنَحَرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدَايَاهُ وَحَلَقَ وَقَصَّرَ أَصْحَابُهُ وَقَالَ أُشْهِدُکُمْ أَنِّي أَوْجَبْتُ عُمْرَةً فَإِنْ خُلِّيَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ طُفْتُ وَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ صَنَعْتُ کَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَارَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ مَا أُرَی شَأْنَهُمَا إِلَّا وَاحِدًا أُشْهِدُکُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّةً مَعَ عُمْرَتِي فَطَافَ طَوَافًا وَاحِدًا وَسَعْيًا وَاحِدًا حَتَّی حَلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا
عبد ﷲ بن محمد بن اسماء، جویریہ، حضرت نافع سے روایت کرتے ہیں کہ ان کو عبیدﷲ بن عبدﷲ اور سالم بن عبدﷲ نے بتایا کہ ہم دونوں نے اپنے والد حضرت عبدﷲ بن عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے گفتگو کی (دوسری سند) امام بخاری، موسیٰ بن اسماعیل، جویریہ، حضرت نافع سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبدﷲ بن عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے بیٹوں نے ان سے کہا کہ اس سال آپ عمرہ کو نہ جائیے کیونکہ ہمیں اندیشہ ہے کہ شاید آپ صلی ﷲ علیہ وسلم بیت ﷲ تک نہ پہنچ سکیں انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اکرم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عمرے کی نیت سے نکلے تھے مگر قریش کے کافروں نے بیت ﷲ تک نہ جانے دیا آخر رسول اکرم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ میں قربانی کے جانور ذبح کردیئے سر منڈوایا اور آپ کے اصحاب رضی ﷲ تعالیٰ عنہم نے بھی بال اتروادیئے پھر ابن عمر نے فرمایا کہ میں تم کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر عمرہ واجب کرلیا ہے اب اگر مجھے لوگوں نے بیت ﷲ تک جانے دیا تو میں طواف کروں گا اور عمرہ بجا لاؤں گا اور اگر مزاحمت کی گئی تو پھر وہی کروں گا جو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے کیا تھا یہ کہ کر چل دیئے کچھ دور جا کر کہا کہ میں نے عمرہ کے ساتھ اپنے ذمہ حج بھی واجب کرلیا ہے اس کے بعد آپ نے حج و عمرہ کا ایک ہی طواف کیا اور ایک ہی سعی کی اور دسویں تاریخ کو احرام اتار دیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment