کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
غزوات کا بیان
باب
اس باب میں کوئی عنوان نہیں
حدیث نمبر
3968
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ کَانَ عُمَرُ يُدْخِلُنِي مَعَ أَشْيَاخِ بَدْرٍ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِمَ تُدْخِلُ هَذَا الْفَتَی مَعَنَا وَلَنَا أَبْنَائٌ مِثْلُهُ فَقَالَ إِنَّهُ مِمَّنْ قَدْ عَلِمْتُمْ قَالَ فَدَعَاهُمْ ذَاتَ يَوْمٍ وَدَعَانِي مَعَهُمْ قَالَ وَمَا رُئِيتُهُ دَعَانِي يَوْمَئِذٍ إِلَّا لِيُرِيَهُمْ مِنِّي فَقَالَ مَا تَقُولُونَ فِي إِذَا جَائَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا حَتَّی خَتَمَ السُّورَةَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ أُمِرْنَا أَنْ نَحْمَدَ اللَّهَ وَنَسْتَغْفِرَهُ إِذَا نُصِرْنَا وَفُتِحَ عَلَيْنَا وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَا نَدْرِي أَوْ لَمْ يَقُلْ بَعْضُهُمْ شَيْئًا فَقَالَ لِي يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَکَذَاکَ تَقُولُ قُلْتُ لَا قَالَ فَمَا تَقُولُ قُلْتُ هُوَ أَجَلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمَهُ اللَّهُ لَهُ إِذَا جَائَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ فَتْحُ مَکَّةَ فَذَاکَ عَلَامَةُ أَجَلِکَ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ کَانَ تَوَّابًا قَالَ عُمَرُ مَا أَعْلَمُ مِنْهَا إِلَّا مَا تَعْلَمُ
ابو النعمان، ابوعوانہ، ابوالبشر، سعید بن جبیر، ابن عباس رضی ﷲ عنہما سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ مجھے (اپنی مجلس میں) مشائخ بدر کے ساتھ بٹھاتے تھے تو بعض نے ان میں سے کہا کہ آپ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ اس لڑکے کو جس کے برابر ہماری اولاد ہے ہمارے ساتھ کیوں بیٹھاتے ہیں، انہوں نے جواب دیا کہ پھر آپ لوگ ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو کن لوگوں (کس طبقہ) میں سے سمجھتے ہو، ابن عباس کہتے ہیں کہ پھر ایک دن انہیں اور ان کے ساتھ مجھے جہاں تک میں سمجھتا ہوں صرف اس لئے بلایا کہ انہیں میری طرف سے (علمی کمال) دکھا دیں، چناچہ حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے (ان لوگوں سے) کہا کہ إِذَا جَائَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ آخر سورت تک میں تمہاری کیا رائے ہے؟ بعض نے کہا کہ جب ﷲ ہماری مدد کرے اور فتح عطا فرمائے تو اس نے ہمیں حمد و استغفار کا حکم دیا ہے،بعض نے کہا ہمیں معلوم نہیں، بعض نے کچھ بھی نہیں کہا، تو حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے کہا اے ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ! کیا تمہارا بھی یہی خیال ہے؟ میں نے کہا نہیں، آپ نے فرمایا پھر تم کیا کہتے ہو؟ میں نے کہا جب ﷲ کی مدد اور فتح مکہ حاصل ہوئی تو ﷲ نے اپنے رسول صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو وفات کی خبر دی ہے تو فتح مکہ آپ کی وفات کی علامت ہے لہذا آپ ﷲ تعالیٰ کی حمد اور تسبیح کیجئے اور استغفار کیجئے ﷲ قبول کرنے والے ہے حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میرا بھی یہی خیال ہے جو تمہارا ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment