Saturday, May 7, 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1433,TotalNo:3969


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
غزوات کا بیان
باب
اس باب میں کوئی عنوان نہیں
حدیث نمبر
3969
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَی مَکَّةَ ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ أُحَدِّثْکَ قَوْلًا قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَدَ يَوْمَ الْفَتْحِ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حِينَ تَکَلَّمَ بِهِ إِنَّهُ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنْ مَکَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِکَ بِهَا دَمًا وَلَا يَعْضِدَ بِهَا شَجَرًا فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ لِقِتَالِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا فَقُولُوا لَهُ إِنَّ اللَّهَ أَذِنَ لِرَسُولِهِ وَلَمْ يَأْذَنْ لَکُمْ وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي فِيهَا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ کَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ وَلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَقِيلَ لِأَبِي شُرَيْحٍ مَاذَا قَالَ لَکَ عَمْرٌو قَالَ قَالَ أَنَا أَعْلَمُ بِذَلِکَ مِنْکَ يَا أَبَا شُرَيْحٍ إِنَّ الْحَرَمَ لَا يُعِيذُ عَاصِيًا وَلَا فَارًّا بِدَمٍ وَلَا فَارًّا بِخَرْبَةٍ
سعید بن شرجیل، لیث، مقبری، ابوشریح عدوی نے عمرو بن سعید سے جب وہ مکہ کی طرف لشکر بھیج رہا تھا تو کہا، اے امیر! مجھے اجازت دے دیجئے کہ میں آپ سے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کا وہ قول جو آپ نے فتح مکہ کے دوسرے دن فرمایا تھا بیان کروں آپ سے وہ بات میرے کانوں نے سنی دل نے محفوظ رکھی اور جب آپ وہ بات فرما رہے تھے تو آپ کو میری آنکھیں دیکھ رہی تھیں، آپ نے ﷲ کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا کہ ﷲ نے مکہ کو حرم بنایا ہے لوگوں نے نہیں بنایا ہے (کہ جب چاہا حلال کرلیا اور جب چاہا حرام) جو شخص ﷲ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کے لئے مکہ میں خونریزی کرنا اور مکہ کے درخت کاٹنا جائز نہیں اگر کوئی رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے فتح مکہ کے دن قتال سے استدلال کرے تو تم اسے یہ جواب دے دو کہ ﷲ نے اپنے رسول کو اس کی اجازت دی تھی اور تمہیں اجازت نہیں دی اور مجھے بھی صرف بہت تھوڑی دیر کے لئے اجازت دی تھی پھر آج اس کی حرمت ویسی ہی لوٹ آئی جیسے کل تھی اور (یہ بات) موجود لوگ غیر موجود لوگوں کو پہنچا دیں ابوشریح سے پوچھا گیا کہ پھر عمرو نے آپ سے کیا کہا؟ انہوں نے کہا کہ عمرو نے یہ جواب دیا کہ، اے ابوشریح! اس بات کو میں تم سے زیادہ جانتا ہوں (لیکن) حرم (مکہ) کسی گنہگار قاتل اور مفسد کو پناہ نہیں دیتا ہے (یعنی یہ لوگ اس کی حرمت سے مستثنیٰ ہیں) -



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment