کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
تفسیر سورۃ الدخان
حدیث نمبر
4472
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي الضُّحَی عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی عَبْدِ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَعَا قُرَيْشًا کَذَّبُوهُ وَاسْتَعْصَوْا عَلَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ کَسَبْعِ يُوسُفَ فَأَصَابَتْهُمْ سَنَةٌ حَصَّتْ يَعْنِي کُلَّ شَيْئٍ حَتَّی کَانُوا يَأْکُلُونَ الْمَيْتَةَ فَکَانَ يَقُومُ أَحَدُهُمْ فَکَانَ يَرَی بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَائِ مِثْلَ الدُّخَانِ مِنْ الْجَهْدِ وَالْجُوعِ ثُمَّ قَرَأَ فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَائُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ يَغْشَی النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ حَتَّی بَلَغَ إِنَّا کَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلًا إِنَّکُمْ عَائِدُونَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَفَيُکْشَفُ عَنْهُمْ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ وَالْبَطْشَةُ الْکُبْرَی يَوْمَ بَدْرٍ
سلیمان بن حرب، جریر بن حازم، اعمش، ابوالضحیٰ، مسروق سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں عبد ﷲ کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے جب قریش کے حق میں بد دعا کی انہوں نے آپ کو جھٹلایا تھا اور آپ کی نافرمانی کی تھی تو آپ نے فرمایا کہ یا ﷲ یوسف علیہ السلام کی سی قحط سالی کے ذریعہ ان (کافروں) کے خلاف ہماری مدد کر وہ لوگ قحط میں مبتلا ہو گئے اور تمام چیزیں ختم ہو گئیں یہاں تک کہ وہ مردار کھانے لگے چناچہ اگر کوئی شخص کھڑا ہوتا تو بھوک اور تکلیف کے سبب سے اس کے اور آسمان کے درمیان دھواں سا نظر آتا پھر یہ آیت پڑھی اور اس دن کا انتظار کرو جب آسمان صریح دھواں لے کر آئے گا لوگوں پر چھا جائے گا یہ درد ناک عذاب ہے یہاں تک کہ اس آیت پر پہنچے کہ بے شک ہم عذاب کو کچھ دنوں کے لئے دور کردیں گے بے شک تم اپنی پہلی حالت کی طرف لوٹ جاؤ گے عبد ﷲ نے کہا قیامت کے دن ان سے عذاب دور کیا جائے گا اور کہا بطشۃ کبری سے مراد یوم بدر ہے- (آیت) پھر ان لوگوں نے نبی سے منہ پھر لیا اور کہا کہ تعلیم کیا ہوا دیوانہ ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment