کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
تفسیر سورۃ الدخان
حدیث نمبر
4473
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ وَمَنْصُورٍ عَنْ أَبِي الضُّحَی عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ قُلْ مَا أَسْأَلُکُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنْ الْمُتَکَلِّفِينَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَأَی قُرَيْشًا اسْتَعْصَوْا عَلَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ کَسَبْعِ يُوسُفَ فَأَخَذَتْهُمْ السَّنَةُ حَتَّی حَصَّتْ کُلَّ شَيْئٍ حَتَّی أَکَلُوا الْعِظَامَ وَالْجُلُودَ فَقَالَ أَحَدُهُمْ حَتَّی أَکَلُوا الْجُلُودَ وَالْمَيْتَةَ وَجَعَلَ يَخْرُجُ مِنْ الْأَرْضِ کَهَيْئَةِ الدُّخَانِ فَأَتَاهُ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ أَيْ مُحَمَّدُ إِنَّ قَوْمَکَ قَدْ هَلَکُوا فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَکْشِفَ عَنْهُمْ فَدَعَا ثُمَّ قَالَ تَعُودُونَ بَعْدَ هَذَا فِي حَدِيثِ مَنْصُورٍ ثُمَّ قَرَأَ فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَائُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ إِلَی عَائِدُونَ أَنَکْشِفُ عَنْهُمْ عَذَابَ الْآخِرَةِ فَقَدْ مَضَی الدُّخَانُ وَالْبَطْشَةُ وَاللِّزَامُ وَقَالَ أَحَدُهُمْ الْقَمَرُ وَقَالَ الْآخَرُ وَالرُّومُ
بشر بن خالد، محمد، شعبہ، سلیمان و منصور، ابوالضحیٰ، مسروق سے روایت کرتے ہیں عبد ﷲ نے کہا کہ ﷲ تعالیٰ نے محمد صلی ﷲ علیہ وسلم کو مبعوث کیا اور کہا کہ آپ فرما دیجئے کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا اور نہ خود ساختہ باتیں کرتا ہوں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے جب دیکھا کہ قریش نے نافرمانی کی تو آپ نے فرمایا کہ یا ﷲ یوسف علیہ السالم کی سی قحط سالی کے ذریعے ان (کافروں) کے خلاف ہماری مدد فرما تو وہ لوگ قحط سالی میں مبتلا ہو گئے یہاں تک کہ تمام چیزیں ختم ہو گئیں اور اس کی نوبت پہنچی کہ ہڈیاں اور چمڑے کھانے لگے ان میں سے کسی شخص نے بیان کیا کہ یہاں تک کہ چمڑے اور مردار کھانے لگے اور زمین سے دھواں سا نکلنے لگا تو آپ کے پاس ابوسفیان آیا اور عرض کیا کہ اے محمد صلی ﷲ علیہ وسلم تمہاری قوم ہلاک ہو گئی ﷲ سے دعا کرو کہ ان پر سے مصیبت دور کردے تو آپ نے دعا فرمائی پھر آپ نے فرمایا کہ یہ لوگ اپنی پچھلی حالت کی طرف لوٹ جائیں گے منصور کی حدیث میں ہے کہ پھر عبد ﷲ بن مسعود نے آیت (يَوْمَ تَأْتِي السَّمَائُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ سے الی عائدون تک) تلاوت کی کیا آخرت کا عذاب دور کیا جائے گا دھواں بطشہ (یوم بدر) لزام (ہلاک یوم بدر) گزر چکے بعض نے شق المقر کا تذکرہ کیا اور کسی نے اہل روم کی فتح کا- (آیت) جس دن کہ ہم بری پکڑ پکڑیں گے بے شک ہم بدلہ لینے والے ہیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment