کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اے رسول! جو خواب ہم نے تم کو دکھایا تھا اسے ہم نے لوگوں کے لئے باعث امتحان بنایا۔
حدیث نمبر
4364
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عِکْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاکَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ قَالَ هِيَ رُؤْيَا عَيْنٍ أُرِيَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ شَجَرَةُ الزَّقُّومِ
علی بن عبد ﷲ، سفیان، عمرو، عکرمہ، حضرت ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ یہ رویا خواب نہیں ہے بلکہ اس سے مراد آنکھ سے دیکھنا ہے جو کہ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو شب معراج میں دکھلائی گئی تھی اور جو عالم بیداری میں تھی اور اس آیت میں شجرہ ملعونہ سے مراد تھوہڑ کا درخت ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment