کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا قول کہ تم جسے چاہو ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔
حدیث نمبر
4419
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ جَائَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ عِنْدَهُ أَبَا جَهْلٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَقَالَ أَيْ عَمِّ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کَلِمَةً أُحَاجُّ لَکَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُهَا عَلَيْهِ وَيُعِيدَانِهِ بِتِلْکَ الْمَقَالَةِ حَتَّی قَالَ أَبُو طَالِبٍ آخِرَ مَا کَلَّمَهُمْ عَلَی مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَأَبَی أَنْ يَقُولَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَکَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْکَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ مَا کَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِکِينَ وَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّکَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَکِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَائُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أُولِي الْقُوَّةِ لَا يَرْفَعُهَا الْعُصْبَةُ مِنْ الرِّجَالِ لَتَنُوئُ لَتُثْقِلُ فَارِغًا إِلَّا مِنْ ذِکْرِ مُوسَی الْفَرِحِينَ الْمَرِحِينَ قُصِّيهِ اتَّبِعِي أَثَرَهُ وَقَدْ يَکُونُ أَنْ يَقُصَّ الْکَلَامَ نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْکَ عَنْ جُنُبٍ عَنْ بُعْدٍ عَنْ جَنَابَةٍ وَاحِدٌ وَعَنْ اجْتِنَابٍ أَيْضًا يَبْطِشُ وَيَبْطُشُ يَأْتَمِرُونَ يَتَشَاوَرُونَ الْعُدْوَانُ وَالْعَدَائُ وَالتَّعَدِّي وَاحِدٌ آنَسَ أَبْصَرَ الْجِذْوَةُ قِطْعَةٌ غَلِيظَةٌ مِنْ الْخَشَبِ لَيْسَ فِيهَا لَهَبٌ وَالشِّهَابُ فِيهِ لَهَبٌ وَالْحَيَّاتُ أَجْنَاسٌ الْجَانُّ وَالْأَفَاعِي وَالْأَسَاوِدُ رِدْئًا مُعِينًا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُصَدِّقُنِي وَقَالَ غَيْرُهُ سَنَشُدُّ سَنُعِينُکَ کُلَّمَا عَزَّزْتَ شَيْئًا فَقَدْ جَعَلْتَ لَهُ عَضُدًا مَقْبُوحِينَ مُهْلَکِينَ وَصَّلْنَا بَيَّنَّاهُ وَأَتْمَمْنَاهُ يُجْبَی يُجْلَبُ بَطِرَتْ أَشِرَتْ فِي أُمِّهَا رَسُولًا أُمُّ الْقُرَی مَکَّةُ وَمَا حَوْلَهَا تُکِنُّ تُخْفِي أَکْنَنْتُ الشَّيْئَ أَخْفَيْتُهُ وَکَنَنْتُهُ أَخْفَيْتُهُ وَأَظْهَرْتُهُ وَيْکَأَنَّ اللَّهَ مِثْلُ أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَائُ وَيَقْدِرُ يُوَسِّعُ عَلَيْهِ وَيُضَيِّقُ عَلَيْهِ
ابو الیمان، شعیب، زہری، سعید بن مسیّب، حضرت مسیّب رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب ابوطالب کا انتقال ہونے لگا تو آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس گئے ابوجہل اور عبد ﷲ بن ابی امیہ بن مغیر وغیرہ وہاں موجود تھے آپ نے ابوطالب سے فرمایا اے چچا! آپ ایک دفعہ کلمہ پڑھ دیجئے اور کہہ دیجئے کہ ﷲ ایک ہے اور محمد (صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم) اس کے سچے رسول ہیں تو پھر میں ﷲ سے آپ کے بارے میں کہہ لو نگا اسکے بعد ابوجہل اور عبد ﷲ نے ابوطالب سے کہا کہ کیا تم عبد المطلب کے دین کو چھو ڑدو گے؟ رسول اکرم تو یہی کہتے رہے مگر یہ دونوں اپنی بات دہراتے رہے یہاں تک کہ ابوطالب کے آخری الفاظ یہ تھے کہ میں عبد المطلب کے دین پر مرتاہوں اور لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہنے سے انکار کردیا- آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ و ﷲ میں ان کیلئے برابر استغفار کرتا رہوں گا جب تک ﷲ تعالیٰ مجھے اس سے منع کرے چناچہ اس وقت یہ آیت نازل فرمائی گئی ﴿مَا کَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِکِينَ﴾ الخ یعنی نبی اور ایمان والوں کو مشرکوں کیلئے استغفار نہیں کرنا چاہئے اور ﷲ تعالیٰ نے آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو ابوطالب کے معاملہ میں فرمایا کہ (إِنَّکَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ الخ) یعنی تم جسے چاہو ہدایت نہیں کر سکتے ہدایت تو ﷲ ہی جسے چاہے دیتا ہے ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ'' تنوء بالعصبۃاولی القوۃ'' کے معنی یہ ہیں کہ ایک بڑی جماعت بھی اس کی کنجیاں نہیں اٹھا سکتی وہ ان کو بھی بو جھل کردیں ''لتنور''بو جھل ہوتی تھیں ''فارغا'' مطلب یہ ہے کہ موسیٰ کی ماں کے دل میں سوائے مو سیٰ کے اور کوئی خیال نہیں رہا ''فرحین'' خوش'' قصیبہ'' کا معنی ہے کہ اس کے پیچھے پیچھے چلی جا، بیان کرنے کے معنی بھی آتے ہیں "عن جنب"کےدور سے اور یہی معنی ہیں "عن جنابۃ" کے اور ''عن اجتناب ''کے بھی یہی معنی ہیں "یبطش یبطش" دونوں پڑھاجاتا ہے "یامرون" مشورہ کر رہے ہیں عدوان عداء تعدی سب کے معنی ہیں حدسے بڑھنا انس دیکھا "جزو ۃ" موٹی لکڑی کاوہ سراجس پرآگ لگی ہواور شہاب لپٹ وا لی کو کہتے ہیں "جان" دبلا سانپ واقعی ''اژدھا'' ''ردا'' مددگار ابن عباس "یصدقنی" کے قاف پرپیش پڑھتے تھے- بعض کا کہنا ہے کہ "سنشد" کے معنی ہیں ہم تمہاری مدد کریں گے عرب مدد دینے کے موقعہ پر کہتے ہیں کہ "جعلنا، یعصدا، مقبوحین" ہلاک کئے گئے "وصلنا" پورا کیا، بیان کیا "یحیٰی" کھنچے چلے آتے ہیں "بطرت" کے معنی سرکشی کی اس نے "امھا رسولا " ''ام القریٰ ''مکہ کے اردگرد کو کہتے ہیں بڑی بستی "تکن" چھپاتی ہیں عرب کہتے ہیں ''اکنت الشئی ''میں نے اسے چھپا لیا ''کننتہ'' کے بھی یہی معنی ہیں "ویکان ﷲ" کا مطلب ہے کیا تو نے اس کو نہیں دیکھا " أَنَّ اللَّهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَائُ وَيَقْدِرُ" جس کے لئے چاہتا ہے رزق فراخ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپاتلا دیتا ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment