Saturday, July 2, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:325,TotalNo:4976


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
خرچ کرنے کا بیان
باب
اپنے اہل و عیال کے لئے مرد کا ایک سال کا خرچ جمع کرنا اور اہل وعیال کا خرچ کس طرح ہے؟
حدیث نمبر
4976
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِکُ بْنُ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ وَکَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ذَکَرَ لِي ذِکْرًا مِنْ حَدِيثِهِ فَانْطَلَقْتُ حَتَّی دَخَلْتُ عَلَی مَالِکِ بْنِ أَوْسٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ مَالِکٌ انْطَلَقْتُ حَتَّی أَدْخُلَ عَلَی عُمَرَ إِذْ أَتَاهُ حَاجِبُهُ يَرْفَا فَقَالَ هَلْ لَکَ فِي عُثْمَانَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ وَالزُّبَيْرِ وَسَعْدٍ يَسْتَأْذِنُونَ قَالَ نَعَمْ فَأَذِنَ لَهُمْ قَالَ فَدَخَلُوا وَسَلَّمُوا فَجَلَسُوا ثُمَّ لَبِثَ يَرْفَا قَلِيلًا فَقَالَ لِعُمَرَ هَلْ لَکَ فِي عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ قَالَ نَعَمْ فَأَذِنَ لَهُمَا فَلَمَّا دَخَلَا سَلَّمَا وَجَلَسَا فَقَالَ عَبَّاسٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ هَذَا فَقَالَ الرَّهْطُ عُثْمَانُ وَأَصْحَابُهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اقْضِ بَيْنَهُمَا وَأَرِحْ أَحَدَهُمَا مِنْ الْآخَرِ فَقَالَ عُمَرُ اتَّئِدُوا أَنْشُدُکُمْ بِاللَّهِ الَّذِي بِهِ تَقُومُ السَّمَائُ وَالْأَرْضُ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نُورَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَةٌ يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسَهُ قَالَ الرَّهْطُ قَدْ قَالَ ذَلِکَ فَأَقْبَلَ عُمَرُ عَلَی عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ فَقَالَ أَنْشُدُکُمَا بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَلِکَ قَالَا قَدْ قَالَ ذَلِکَ قَالَ عُمَرُ فَإِنِّي أُحَدِّثُکُمْ عَنْ هَذَا الْأَمْرِ إِنَّ اللَّهَ کَانَ قَدْ خَصَّ رَسُولَهُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَالِ بِشَيْئٍ لَمْ يُعْطِهِ أَحَدًا غَيْرَهُ قَالَ اللَّهُ مَا أَفَائَ اللَّهُ عَلَی رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ إِلَی قَوْلِهِ قَدِيرٌ فَکَانَتْ هَذِهِ خَالِصَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ مَا احْتَازَهَا دُونَکُمْ وَلَا اسْتَأْثَرَ بِهَا عَلَيْکُمْ لَقَدْ أَعْطَاکُمُوهَا وَبَثَّهَا فِيکُمْ حَتَّی بَقِيَ مِنْهَا هَذَا الْمَالُ فَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ عَلَی أَهْلِهِ نَفَقَةَ سَنَتِهِمْ مِنْ هَذَا الْمَالِ ثُمَّ يَأْخُذُ مَا بَقِيَ فَيَجْعَلُهُ مَجْعَلَ مَالِ اللَّهِ فَعَمِلَ بِذَلِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيَاتَهُ أَنْشُدُکُمْ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُونَ ذَلِکَ قَالُوا نَعَمْ قَالَ لِعَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ أَنْشُدُکُمَا بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمَانِ ذَلِکَ قَالَا نَعَمْ ثُمَّ تَوَفَّی اللَّهُ نَبِيَّهُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ فَقَبَضَهَا أَبُو بَکْرٍ يَعْمَلُ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتُمَا حِينَئِذٍ وَأَقْبَلَ عَلَی عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ تَزْعُمَانِ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ کَذَا وَکَذَا وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّهُ فِيهَا صَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ ثُمَّ تَوَفَّی اللَّهُ أَبَا بَکْرٍ فَقُلْتُ أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَکْرٍ فَقَبَضْتُهَا سَنَتَيْنِ أَعْمَلُ فِيهَا بِمَا عَمِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَکْرٍ ثُمَّ جِئْتُمَانِي وَکَلِمَتُکُمَا وَاحِدَةٌ وَأَمْرُکُمَا جَمِيعٌ جِئْتَنِي تَسْأَلُنِي نَصِيبَکَ مِنْ ابْنِ أَخِيکَ وَأَتَی هَذَا يَسْأَلُنِي نَصِيبَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا فَقُلْتُ إِنْ شِئْتُمَا دَفَعْتُهُ إِلَيْکُمَا عَلَی أَنَّ عَلَيْکُمَا عَهْدَ اللَّهِ وَمِيثَاقَهُ لَتَعْمَلَانِ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِمَا عَمِلَ بِهِ فِيهَا أَبُو بَکْرٍ وَبِمَا عَمِلْتُ بِهِ فِيهَا مُنْذُ وُلِّيتُهَا وَإِلَّا فَلَا تُکَلِّمَانِي فِيهَا فَقُلْتُمَا ادْفَعْهَا إِلَيْنَا بِذَلِکَ فَدَفَعْتُهَا إِلَيْکُمَا بِذَلِکَ أَنْشُدُکُمْ بِاللَّهِ هَلْ دَفَعْتُهَا إِلَيْهِمَا بِذَلِکَ فَقَالَ الرَّهْطُ نَعَمْ قَالَ فَأَقْبَلَ عَلَی عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ فَقَالَ أَنْشُدُکُمَا بِاللَّهِ هَلْ دَفَعْتُهَا إِلَيْکُمَا بِذَلِکَ قَالَا نَعَمْ قَالَ أَفَتَلْتَمِسَانِ مِنِّي قَضَائً غَيْرَ ذَلِکَ فَوَالَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَائُ وَالْأَرْضُ لَا أَقْضِي فِيهَا قَضَائً غَيْرَ ذَلِکَ حَتَّی تَقُومَ السَّاعَةُ فَإِنْ عَجَزْتُمَا عَنْهَا فَادْفَعَاهَا فَأَنَا أَکْفِيَکُمَاهَا
سعید بن عفیر، لیث، عقیل، ابن شہاب، مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں کہ محمد بن جبیر نے مجھ سے ایک حدیث کا ذکر کیا تو میں اس کی تحقیق کے لئے روانہ ہوا، یہاں تک کہ مالک بن اوس کے پاس پہنچا، میں نے ان سے پوچھا تو مالک نے کہا کہ میں چلا، یہاں تک کہ حضرت عمر رضی ﷲ عنہ کے پاس پہنچا، ان کے حاجب یرفانے ان سے آکر کہا کہ حضرت عثمان، عبدالرحمن زبیر اور سعد آپ سے داخل ہونے کی اجازت چاہتے ہیں کیا آپ انہیں اجازت دیتے ہیں، انہوں نے کہا ہاں، چناچہ ان کو داخلہ کی اجازت دے دی، انہوں نے کہا ہاں، لوگ اندر آئے، سلام کیا اور بیٹھ گئے، یرفا تھوڑی دیر ٹھہرا پھر حضرت عمر رضی ﷲ عنہ سے عرض کیا، کیا حضرت علی اور حضرت عباس رضی ﷲ عنہ کو اجازت دیتے ہیں، کہاہاں، چناچہ ان دونوں کو اجازت دے دی اور وہ لوگ اندرآئے اور سلام کرکے بیٹھ گئے، حضرت ابن عباس رضی ﷲ عنہ نے فرمایا اے امیرالمومنین میرے اور ان کے درمیان فیصلہ کردیجئے، عثمان اور ان کے ساتھیوں نے بھی کہا ہاں امیرا لمومنین! ان کافیصلہ کردیجئے اور ان میں سے ایک کو دوسرے سے خلاصی دلائیے، حضرت عمر رضی ﷲ عنہ نے فرمایابے صبری نہ کرو، میں تم لوگوں کو خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے حکم سے آسمان وزمین قائم ہیں، کیا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا کہ ہمارے مال کا کوئی وارث نہ ہوگا، جو کچھ ہم نے چھوڑاوہ صدقہ ہے، کچھ لوگوں نے کہا ہاں فرمایا ہے، حضرت عمر، حضرت علی وعباس رضی ﷲ عنہم کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ میں تم دونوں کو ﷲ کاواسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا، دونوں نے اقرارکیا ہاں فرمایا تھا، حضرت عمر رضی ﷲ عنہ نے فرمایا میں تم سے اسکی حقیقت بیان کروں ﷲ تعالی نے اس مال میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کو مخصوص کیا اورآپ کے علاوہ کسی نبی کو یہ امتیاز عطاء نہیں فرمایا، ﷲ تعالی نے فرمایا (ما افاء ﷲ علی رسولہ الخ) یہ حکم خاص رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے لئے تھا، خدا کی قسم تمہیں چھوڑ کر اپنے لئے نہیں جمع کیا اور نہ اس میں تم پر کسی کو ترجیح دی، اس میں سے تمہیں دیتے تھے، اور تم لوگوں پر خرچ کرتے تھے، یہاں تک کہ اس میں سے یہ مال بچ گیا، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم اس مال سے اپنے اہل وعیال کے لئے ایک سال خرچ لیتے اور جوباقی رہ جاتا اسے خدا کی راہ میں خرچ کردیتے، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم اپنی زندگی بھر اسی پر عمل کرتے رہے، میں تمہیں ﷲ کا واسطہ دے کرکہتا ہوں، کیا تم اس کو جانتے ہو، لوگوں نے کہا ہاں، پھر حضرت علی وعباس رضی ﷲ عنہما کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا کیا تم دونوں اس کو جانتے ہو، دونوں نے کہا ہاں، پھر ﷲ تعالی نے اپنے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کو اٹھالیا، تو ابوبکر رضی ﷲ عنہ نے فرمایا میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کا جانشین ہوں اوراس پر انہوں نے قبضہ کرلیا اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم جس طرح اس کامصرف لیتے تھے، اسی طرح وہ بھی اسی مصرف میں خرچ کرتے رہے اور تم دونوں اس وقت موجود تھے، پھرحضرت علی اور حضرت عباس رضی ﷲ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ تم دونوں نے گمان کیا کہ ابوبکر ایسے ایسے تھے (انہوں نے ہمارا حق نہیں دیا) حالانکہ ﷲ تعالی جانتا ہے کہ وہ اس میں سچے اور نیکو کاراور حق پر تھے، پھر ﷲ تعالی نے ابوبکر کو اٹھا لیا، تو میں نے کہا کہ میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ کا جانشین ہوں، میں نے اس کو دوسال تک اپنے قبضہ میں رکھا اور اسی کو اسی مصرف میں خرچ کرتارہا، جس میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ خرچ کرتے تھے، پھر تم دونوں میرے پاس آئے اور تم دونوں ایک ہی طرح کی بات کہتے ہو اور تم دونوں کا ایک ہی معاملہ ہے، تم مجھ سے اپنے بھائی کے بیٹے کے مال سے حصہ مانگنے آئے اور وہ اپنی بیوی کے والد کے مال سے حصہ مانگنے آئے تو میں نے چاہا اگرتم چاہو تو میں تم دونوں کہ یہ دے دوں، اس شرط پرکہ تم ﷲ سے کئے ہوئے عہداور وعدے پر قائم رہوگے، اور اس کو اسی مصرف میں خرچ کروگے، جس میں ﷲ کے رسول اور حضرت ابوبکر صدیق رضی ﷲ عنہ اور میں نے خرچ کیا ہے، جب سے میں نے اس پر قبضہ کیا ہے اور اگر ایسا نہیں کروگے تو پھر مجھ سے اس کے متعلق کچھ نہ کہنا تم دونوں نے کہا کہ ہم کو یہ اس شرط پر دے دو، میں تم دونوں کو ﷲ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا میں نے تم کو دیا نہیں؟ لوگوں نے کہا ہاں، پھر حضرت علی رضی ﷲ عنہ اور عباس رضی ﷲ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کیا میں نے تم کو دیا نہیں؟ دونوں نے کہا ہاں، پھر فرمایا کہ تم مجھ سے اس کے علاوہ کیا فیصلہ چاہتے ہو! قسم ہے اس ذات کی جس کے حکم سے آسمان وزمین قائم ہیں، میں اس کے علاوہ اور کوئی فیصلہ نہیں کروں گا، یہاں تک کہ قیامت آجائے، اگرتم اس شرط کی ادائیگی سے عاجز ہوتو تم وہ مجھے دے دو، میں اس کی نگرانی کروں گا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment