Saturday, July 2, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:248,TotalNo:4899


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
طلاق کا بیان
باب
آیت لم تحرم مااحل اللہ لک کا شان نزول
حدیث نمبر
4899
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَائِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْعَسَلَ وَالْحَلْوَائَ وَکَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ الْعَصْرِ دَخَلَ عَلَی نِسَائِهِ فَيَدْنُو مِنْ إِحْدَاهُنَّ فَدَخَلَ عَلَی حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ فَاحْتَبَسَ أَکْثَرَ مَا کَانَ يَحْتَبِسُ فَغِرْتُ فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِکَ فَقِيلَ لِي أَهْدَتْ لَهَا امْرَأَةٌ مِنْ قَوْمِهَا عُکَّةً مِنْ عَسَلٍ فَسَقَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ شَرْبَةً فَقُلْتُ أَمَا وَاللَّهِ لَنَحْتَالَنَّ لَهُ فَقُلْتُ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ إِنَّهُ سَيَدْنُو مِنْکِ فَإِذَا دَنَا مِنْکِ فَقُولِي أَکَلْتَ مَغَافِيرَ فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَکِ لَا فَقُولِي لَهُ مَا هَذِهِ الرِّيحُ الَّتِي أَجِدُ مِنْکَ فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَکِ سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ فَقُولِي لَهُ جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ وَسَأَقُولُ ذَلِکِ وَقُولِي أَنْتِ يَا صَفِيَّةُ ذَاکِ قَالَتْ تَقُولُ سَوْدَةُ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ قَامَ عَلَی الْبَابِ فَأَرَدْتُ أَنْ أُبَادِيَهُ بِمَا أَمَرْتِنِي بِهِ فَرَقًا مِنْکِ فَلَمَّا دَنَا مِنْهَا قَالَتْ لَهُ سَوْدَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَکَلْتَ مَغَافِيرَ قَالَ لَا قَالَتْ فَمَا هَذِهِ الرِّيحُ الَّتِي أَجِدُ مِنْکَ قَالَ سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ فَقَالَتْ جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ فَلَمَّا دَارَ إِلَيَّ قُلْتُ لَهُ نَحْوَ ذَلِکَ فَلَمَّا دَارَ إِلَی صَفِيَّةَ قَالَتْ لَهُ مِثْلَ ذَلِکَ فَلَمَّا دَارَ إِلَی حَفْصَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَسْقِيکَ مِنْهُ قَالَ لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ قَالَتْ تَقُولُ سَوْدَةُ وَاللَّهِ لَقَدْ حَرَمْنَاهُ قُلْتُ لَهَا اسْکُتِي
فروہ بن ابی المغراء، علی بن مسہر، ہشام بن عروہ، عروہ، عائشہ رضی ﷲ عنہا کہتی ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم شہداور میٹھی چیز پسند کرتے تھے، اور جب نماز عصر سے فارغ ہوتے تو اپنی بیویوں کے پاس تشریف لاتے اور ان میں سے کسی کے پاس جاتے، ایک دن حفصہ رضی ﷲ عنہا کے پاس گئے اور معمول سے زیادہ ٹھہرے، مجھے رشک ہوا تو میں نے اسکے متعلق دریافت کیا، مجھے بتایاگیا کہ ان کے پاس ان کی قوم کی کسی عورت نے تھوڑا سا شہد تحفۃ بھیجا تھا اس میں سے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کو تھوڑاپلایا، تو میں نے کہابخدا میں کچھ حیلہ کروں گی، میں نے سودہ رضی ﷲ عنہ سے کہا کہ عنقریب نبی صلی ﷲ علیہ وسلم تمہارے پاس تشریف لے جائیں گے جب تمہارے پاس آئیں تو کہنا کہ کیا آپ نے مغافیرکھایا ہے پھر تجھ سے کہیں گے کہ نہیں تو کہنا پھر کس چیز کی بوآرہی ہے، آپ (یقینا) فرمائیں گے کہ مجھے حفصہ رضی ﷲ عنہ زوجہا تھوڑاشہد پلایا ہے، تم جواب دینا کہ شاید مکھی نے عرفط کا رس چوساہوگا، میں بھی یہی کہوں گی اور اے صفیہ رضی ﷲ عنہا! تم بھی یہی کہنا، حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا بیان کرتی ہیں، سودہ رضی ﷲ عنہ کہنے لگیں کہ بخدا! نبی صلی ﷲ علیہ وسلم دروازے پرتشریف لائے ہی تھے کہ میں نے تمہارے ڈرکے سبب سے وہ بات کہنی چاہی جس کا تم نے مجھے حکم دیا تھا، جب نبی صلی ﷲ علیہ وسلم سودہ رضی ﷲ عنہ کے قریب پہنچے تو سودہ نے عرض کیا کہ یا رسول ﷲ! کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ آپ نے فرمایانہیں، سودہ نے عرض کیا پھر یہ کس چیز کی بوآرہی ہے؟ آپ نے فرمایا حفصہ رضی ﷲ عنہا نے مجھے تھوڑاسا شہد پلایاہے، سودہ رضی ﷲ عنہ نے عرض کیاشاید مکھیوں نے غرفط کارس چوساہوگاجب آپ میرے پاس آئے تو میں نے بھی یہی کہا اور صفیہ رضی ﷲ عنہ کے پاس گئے تو انہوں نے بھی یہی کہا، جب آپ دوبارہ حفصہ رضی ﷲ عنہا کے پاس گئے تو انہوں نے کہایارسول ﷲ! کیا میں آپ کو شہد نہ پلاؤوں؟ آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اسکی ضرورت نہیں، سودہ رضی ﷲ عنہ کہنے لگیں بخدا! ہم نے اس کو آپ پر حرام کرادیا، میں نے سودہ رضی ﷲ عنہ رضی ﷲ عنہ سے کہاخاموش رہ (کہیں آپ کو خبر نہ ہوجائے) -



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment