Saturday, July 2, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:247,TotalNo:4898


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
طلاق کا بیان
باب
آیت لم تحرم مااحل اللہ لک کا شان نزول
حدیث نمبر
4898
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَبَّاحٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ زَعَمَ عَطَائٌ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَمْکُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلًا فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَنَّ أَيَّتَنَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْتَقُلْ إِنِّي أَجِدُ مِنْکَ رِيحَ مَغَافِيرَ أَکَلْتَ مَغَافِيرَ فَدَخَلَ عَلَی إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ لَهُ ذَلِکَ فَقَالَ لَا بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَلَنْ أَعُودَ لَهُ فَنَزَلَتْ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَکَ إِلَی إِنْ تَتُوبَا إِلَی اللَّهِ لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَی بَعْضِ أَزْوَاجِهِ لِقَوْلِهِ بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًاقال ابوعبدالله المغافيرشبيه بالصمغ يکون فی الرمث فيه حلاوة اغفل الرمث اذا ظهرفيه وحدها مغفور ويقال مغاتير
حسن بن محمد بن صباح، حجاج، ابن جریج، عطاء، عبیدبن عمیرحضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا کہتی ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم زینب بنت جحش کے پاس ٹھہرتے اور انکے پاس شہد پیتے، تو میں نے اور حفصہ رضی ﷲ عنہا نے مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم تشریف لائیں تو کہے کہ مجھے آپ کے منہ سے مغافیر کی بوآتی ہے، کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے چناچہ آپ ان دونوں میں سے ایک کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے یہی عرض کیا، آپ نے فرمایا نہیں میں نے تو زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور اب کبھی نہیں پیوں گا، تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم! آپ کیوں ایسی چیز کو اپنے اوپر حرام کرتے ہیں جو ﷲ نے آپ کے لئے حلال کی ہے، ﴿إِنْ تَتُوبَا إِلَی اللَّهِ ﴾ تک اس میں حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا اور حفصہ رضی ﷲ عنہا سے خطاب ہے، ﴿وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَی بَعْضِ أَزْوَاجِهِ ﴾ سے مراد آپ کا یہ قول ہے کہ میں نے تو شہد پیا ہے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment