کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
طلاق کا بیان
باب
اللہ تعالی کا قول کہ ان کا شوہر عدت میں ان کے لوٹانے کا زیادہ مستحق ہے۔
حدیث نمبر
4955
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا طَلَّقَ امْرَأَةً لَهُ وَهِيَ حَائِضٌ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَاجِعَهَا ثُمَّ يُمْسِکَهَا حَتَّی تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ عِنْدَهُ حَيْضَةً أُخْرَی ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّی تَطْهُرَ مِنْ حَيْضِهَا فَإِنْ أَرَادَ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَلْيُطَلِّقْهَا حِينَ تَطْهُرُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُجَامِعَهَا فَتِلْکَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَائُ وَکَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا سُئِلَ عَنْ ذَلِکَ قَالَ لِأَحَدِهِمْ إِنْ کُنْتَ طَلَّقْتَهَا ثَلَاثًا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْکَ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَيْرَکَ وَزَادَ فِيهِ غَيْرُهُ عَنْ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي نَافِعٌ قَالَ ابْنُ عُمَرَ لَوْ طَلَّقْتَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي بِهَذَا
قتیبہ، لیث، نافع کہتے ہیں کہ ابن عمربن خطاب رضی ﷲ عنہما نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں ایک طلاق دے دی تو ان کو آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ رجوع کرلے، پھرا س کو روکے رکھ، یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائے، پھر اس کے پاس اسے دوسرا حیض آجائے، پھر اس کو رہنے دے یہاں تک کہ وہ حیض سے پاک ہوجائے، اگروہ اس کو طلاق دیناچاہتا ہے تو طلاق دے دے جب کہ وہ حیض سے پاک ہوجائے لیکن صحبت سے پہلے، یہی وہ عدت ہے جس کے متعلق ﷲ تعالی نے حکم دیاہے کہ اس میں عورتوں کو طلاق دی جائے اور عبد ﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہ سے جب اس کے متعلق پوچھا گیا تو ایک شخص سے کہا کہ جب تو اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے تو وہ تجھ پرحرام ہے، یہاں تک کہ وہ دوسرے شوہر سے نکاح کرلے، اور دوسرے لوگوں نے اس میں اضافہ کے ساتھ لیث سے بواسطہ نافع، ابن عمر رضی ﷲ عنہما کا قول نقل کیا کہ کاش! تو عورت کو ایک یا دو طلاقیں دیتا اس لئے کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے اسی کامجھے حکم دیا تھا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment