Saturday, July 2, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:306,TotalNo:4957


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
طلاق کا بیان
باب
جس عورت کا شوہر مرجائے وہ چارماہ دس دن تک اس کا سوگ منائے گی
حدیث نمبر
4957
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ قَالَتْ زَيْنَبُ دَخَلْتُ عَلَی أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُوهَا أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ فَدَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِطِيبٍ فِيهِ صُفْرَةٌ خَلُوقٌ أَوْ غَيْرُهُ فَدَهَنَتْ مِنْهُ جَارِيَةً ثُمَّ مَسَّتْ بِعَارِضَيْهَا ثُمَّ قَالَتْ وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَی مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَی زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا قَالَتْ زَيْنَبُ فَدَخَلْتُ عَلَی زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حِينَ تُوُفِّيَ أَخُوهَا فَدَعَتْ بِطِيبٍ فَمَسَّتْ مِنْهُ ثُمَّ قَالَتْ أَمَا وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَی الْمِنْبَرِ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَی مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَی زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا قَالَتْ زَيْنَبُ وَسَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ تَقُولُ جَائَتْ امْرَأَةٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَقَدْ اشْتَکَتْ عَيْنَهَا أَفَتَکْحُلُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا کُلَّ ذَلِکَ يَقُولُ لَا ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ وَقَدْ کَانَتْ إِحْدَاکُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَی رَأْسِ الْحَوْلِ قَالَ حُمَيْدٌ فَقُلْتُ لِزَيْنَبَ وَمَا تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَی رَأْسِ الْحَوْلِ فَقَالَتْ زَيْنَبُ کَانَتْ الْمَرْأَةُ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا دَخَلَتْ حِفْشًا وَلَبِسَتْ شَرَّ ثِيَابِهَا وَلَمْ تَمَسَّ طِيبًا حَتَّی تَمُرَّ بِهَا سَنَةٌ ثُمَّ تُؤْتَی بِدَابَّةٍ حِمَارٍ أَوْ شَاةٍ أَوْ طَائِرٍ فَتَفْتَضُّ بِهِ فَقَلَّمَا تَفْتَضُّ بِشَيْئٍ إِلَّا مَاتَ ثُمَّ تَخْرُجُ فَتُعْطَی بَعَرَةً فَتَرْمِي ثُمَّ تُرَاجِعُ بَعْدُ مَا شَائَتْ مِنْ طِيبٍ أَوْ غَيْرِهِ سُئِلَ مَالِکٌ مَا تَفْتَضُّ بِهِ قَالَ تَمْسَحُ بِهِ جِلْدَهَا
عبد ﷲ بن یوسف، مالک، عبد ﷲ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم، حمید بن نافع، زینب بنت ابی سلمہ کہتی ہیں کہ انہوں نے مجھ سے یہ تین احادیث بیان کیں، زینب بیان کرتی ہیں کہ میں ام حبیبہ زوجہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس گئی، جب کہ ان کے والد ابوسفیان بن حرب نے وفات پائی، ام حبیبہ نے خوشبو منگوائی جس میں خلوق یا کسی اور چیز کی زردی تھی اور اس سے ایک لڑکی کے خوشبو لگائی پھراپنے رخسار پر لگالی، پھر بیان کیا کہ بخدا! مجھ کو خوشبو کی کوئی ضرورت نہیں تھی، مگراس وجہ سے (میں نے خوشبو لگائی) کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ کسی عورت کے لئے جو ﷲ اور قیامت کے دن پرایمان رکھتی ہے حلال نہیں کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے، بجز شوہر کے کہ اس کا سوگ چار ماہ دس دن تک منائے، زینب نے بیان کیا کہ میں زینب بنت جحش کے پاس گئی، جب کہ ان کے بھائی نے وفات پائی، انہوں نے بھی خوشبو منگوا کر اسے استعمال کیا، پھر فرمایا کہ بخدا مجھے خوشبو کی حاجت نہیں تھی، بجز اس کے کہ میں نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا کہ کسی مومن عورت کے لئے حلال نہیں کہ میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے، سوائے شوہر کے کہ اس کا سوگ چار ماہ دس دن تک منائے، زینب رضی ﷲ عنہا کا بیان ہے کہ میں نے ام سلمہ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ ایک عورت نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول ﷲ! میری بیٹی کا شوہر مرگیا ہے، اور اس کی آنکھ میں تکلیف ہے تو کیا ہم اس کو سرمہ لگائیں، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے دو یا تین بار فرمایا نہیں نہیں، پھرآنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا وہ چارمہینے دس دن تک انتظار کرے اور تم میں سے ایک عورت جاہلیت کے زمانہ میں ایک سال کے بعد مینگنی پھیکنتی تھی (اس کے بعد عدت سے باہرہوتی تھی) حمید کا بیان ہے کہ میں نے زینب رضی ﷲ عنہا سے پوچھا کہ یہ مینگنی پھینکنے کا کیا مطلب ہے تو زینب رضی ﷲ عنہا نے بتایا کہ جب کسی عورت کا شوہر مرجاتا تو ایک تنگ کوٹھڑی میں داخل ہوجاتی اور خراب قسم کا کپڑا پہن لیتی اور خوشبو نہیں لگاتی یہاں تک کہ ایک سال گزرجاتا پھراس کے پاس کوئی چوپایہ گدھا، بکری یا کوئی پرندہ لایا جاتا اور اس پر ہاتھ پھیرتی، بہت کم ایسا ہوتا کہ جس پر وہ ہاتھ پھیرے اور وہ مر نہ جائے پھروہ باہرنکل آتی اور اس کے پاس لوگ مینگنی لاتے جسے پھینکتی وہ پھر واپس ہوجاتی اور جو کام کرنا چاہتی مثلا خوشبو وغیرہ لگانا تو وہ کرتی، مالک سے کسی نے پوچھا کہ تفتض سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے بتایا کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ اس سے اپنی کھال ملتی تھی-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment