کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
طلاق کا بیان
باب
سوگ والی عورت کے سرمہ لگانے کا بیان
حدیث نمبر
4958
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّهَا أَنَّ امْرَأَةً تُوُفِّيَ زَوْجُهَا فَخَشُوا عَلَی عَيْنَيْهَا فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنُوهُ فِي الْکُحْلِ فَقَالَ لَا تَکَحَّلْ قَدْ کَانَتْ إِحْدَاکُنَّ تَمْکُثُ فِي شَرِّ أَحْلَاسِهَا أَوْ شَرِّ بَيْتِهَا فَإِذَا کَانَ حَوْلٌ فَمَرَّ کَلْبٌ رَمَتْ بِبَعَرَةٍ فَلَا حَتَّی تَمْضِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ وَسَمِعْتُ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ إِلَّا عَلَی زَوْجِهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا
آدم بن ابی ایاس، شعبہ، حمیدبن نافع، زینب بنت ام سلمہ رضی ﷲ عنہما اپنی ماں سے روایت کرتی ہیں کہ ایک عورت کا شوہرمرگیا لوگوں کو اس کی آنکھ کے متعلق خطرہ محسوس ہوا تو وہ لوگ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور سرمہ لگانے کی اجازت چاہی آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سرمہ نہ لگاؤ عورتیں (جاہلیت کے زمانہ میں) خراب قسم کے گھر اور کپڑوں میں رہتی تھیں جب ایک سال گزرجاتا پھرایک کتا گزرتا اور وہ مینگنی پھینکتی تھی (توعدت ختم ہوتی تھی) اس لیے وہ سرمہ نہ لگائے جب تک کہ چارمہینے دس دن نہ گذرجائیں اور میں نے زینب بنت ام سلمہ رضی ﷲ عنہا کو ام حبیبہ رضی ﷲ عنہا سے روایت کرتے ہوئے سنا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی مسلمان عورت کے لئے جو ﷲ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہے، جائز نہیں کہ کسی (میت) پرتین دن سے زیادہ سوگ منائے، سوائے اس کے شوہرکے کہ اس پر چارہ ماہ دس دن تک سوگ منائے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment