کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
نکاح کا بیان
باب
اللہ تعالی کا حکم کہ عورتوں کو ہنسی خوشی مہردو اور زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم کتنا مہر جائزہے۔
حدیث نمبر
4784
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَی وَزْنِ نَوَاةٍ فَرَأَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشَاشَةَ الْعُرْسِ فَسَأَلَهُ فَقَالَ إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَی وَزْنِ نَوَاةٍ وَعَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَی وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ
سلیمان بن حرب، شعبہ، عبدالعزیزبن صہیب، حضرت انس رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں کہ عبدالرحمن بن عوف نے ایک گٹھلی کے وزن (سونے کے برابر) مہر کے عوض ایک عورت سے نکاح کیا، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے جب ان پر شادی کے آثار دیکھے تو ان سے پوچھا (کیا معاملہ ہے) انہوں نے عرض کیا کہ میں نے ایک گٹھلی کے وزن کے برابر سونے کے عوض ایک عورت سے نکاح کیا ہے، لفظ سونے کی صراحت قتادہ نے حضرت انس رضی ﷲ عنہ سے روایت کی ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment