کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
نکاح کا بیان
باب
عورت اندام نہانی کے بالوں کوصاف کرلے اور کنگھی کرلے
حدیث نمبر
4881
حَدَّثَنِا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ فَلَمَّا قَفَلْنَا کُنَّا قَرِيبًا مِنْ الْمَدِينَةِ تَعَجَّلْتُ عَلَی بَعِيرٍ لِي قَطُوفٍ فَلَحِقَنِي رَاکِبٌ مِنْ خَلْفِي فَنَخَسَ بَعِيرِي بِعَنَزَةٍ کَانَتْ مَعَهُ فَسَارَ بَعِيرِي کَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَائٍ مِنْ الْإِبِلِ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ قَالَ أَتَزَوَّجْتَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ أَبِکْرًا أَمْ ثَيِّبًا قَالَ قُلْتُ بَلْ ثَيِّبًا قَالَ فَهَلَّا بِکْرًا تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُکَ قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ فَقَالَ أَمْهِلُوا حَتَّی تَدْخُلُوا لَيْلًا أَيْ عِشَائً لِکَيْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ
یعقوب بن ابراہیم، ہشیم، سیار، شعبی، جابر بن عبد ﷲ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنگ میں شریک تھے جب ہم واپس ہوئے اور مدینہ کے قریب پہنچے تو میں اپنے جس سست رفتاراونٹ پرسوارتھا اسکوجلدی جلدی ہانکنے لگا، ایک سوارمیرے پیچھے سے آکر مجھے ملا اور اپنے ایک نیزے سے جواس کے پاس تھا میرے اونٹ کو ٹھونکا لگایا، تو میرا اونٹ اس طرح چلنے لگا جس طرح اچھے سے اچھا اونٹ چلے، میں نے مڑ کر دیکھا تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم تھے، میں نے کہا یا رسول ﷲ! میں نے نئی شادی کی ہے، آپ نے فرمایا کیا تو نے شادی کی ہے؟ میں نے کہاجی ہاں، آپ نے فرمایا کنواری ہے یا بیوہ، میں نے کہا بیوہ ہے، آپ نے فرمایا کنواری سے کیوں شادی نہ کی کہ تو اس سے کھیلتا اور وہ تجھ سے کھیلتی، جب ہم مدینہ پہنچے اور اپنے گھر کو جانا چاہا تو آپ نے فرمایا ٹھہرجاو یہاں تک کہ تم رات کو یعنی عشاء کے وقت گھر میں داخل ہو، تاکہ عورت پراگندہ بالوں میں کنگھی کرلے اور اندام نہانی کے بالوں کو صاف کرلے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment