کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
نکاح کا بیان
باب
رضاعی رشتہ داروں کی طرف دیکھنے اور ان کے پاس جانے کا بیان
حدیث نمبر
4873
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ جَائَ عَمِّي مِنْ الرَّضَاعَةِ فَاسْتَأْذَنَ عَلَيَّ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّی أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ إِنَّهُ عَمُّکِ فَأْذَنِي لَهُ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ عَمُّکِ فَلْيَلِجْ عَلَيْکِ قَالَتْ عَائِشَةُ وَذَلِکَ بَعْدَ أَنْ ضُرِبَ عَلَيْنَا الْحِجَابُ قَالَتْ عَائِشَةُ يَحْرُمُ مِنْ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنْ الْوِلَادَةِ
عبد ﷲ بن یوسف، مالک، ہشام بن عروہ، عروہ، حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ میرے رضاعی چچا میرے یہاں آئے اور میرے پاس آنے کی اجاز ت مانگی، میں نے اجازت نہیں دی اور کہا کہ جب تک رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم سے نہ پوچھ لوں گی (اجازت نہیں دے سکتی) آپ صلی ﷲ علیہ وسلم جب تشریف لائے تو میں نے آپ صلی ﷲ علیہ وسلم سے یہ بات پوچھی، فرمایا وہ تمہارے چچا ہیں، انہیں اندر بلا لیا ہوتا، حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کہا یا رسول ﷲ! مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں، آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا وہ تو تمہارے چچا ہیں، انہیں تمہارے پاس آنے میں کوئی مضائقہ نہیں، حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا نے کہایہ پردہ کی آیت کے نزول کے بعد کاواقعہ ہے، حضرت عائشہ کا قول ہے کہ نسب سے جولوگ حرام ہیں وہی لوگ دودھ کے رشتے سے بھی حرام ہیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment