کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
نکاح کا بیان
باب
آیت "والذین لم یبلغوا الحکم منکم کی تفسیر۔
حدیث نمبر
4883
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا سَأَلَهُ رَجُلٌ شَهِدْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَ أَضْحًی أَوْ فِطْرًا قَالَ نَعَمْ وَلَوْلَا مَکَانِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ يَعْنِي مِنْ صِغَرِهِ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّی ثُمَّ خَطَبَ وَلَمْ يَذْکُرْ أَذَانًا وَلَا إِقَامَةً ثُمَّ أَتَی النِّسَائَ فَوَعَظَهُنَّ وَذَکَّرَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ فَرَأَيْتُهُنَّ يَهْوِينَ إِلَی آذَانِهِنَّ وَحُلُوقِهِنَّ يَدْفَعْنَ إِلَی بِلَالٍ ثُمَّ ارْتَفَعَ هُوَ وَبِلَالٌ إِلَی بَيْتِهِ
احمد بن محمد، عبد ﷲ ، سفیان، عبدالرحمن بن عابس ابن عباس رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے پوچھا کہ کیا آپ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ عید الفطر یاعید الاضحیٰ کے دن جماعت میں شریک ہوئے ہیں، انہوں نے کہاہاں! اگرمجھے قرابت کامرتبہ حاصل نہ ہوتاتوا پنی کم سنی کی وجہ سے آپ کو نہیں دیکھ سکتا تھا، آپ صلی ﷲ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، نماز پڑھی، پھر خطبہ سنایا، آذان واقامت کا تذکرہ نہیں کیا، پھر عورتوں کے پاس تشریف لائے، انہیں نصیحت کی، آخرت کی یاد دلائی اور صدقہ کا حکم دیا، میں نے عورتوں کو دیکھا کہ وہ اپنے کانوں اور گلے کی طرف ہاتھ لے جا کر بلال رضی ﷲ عنہ کی طرف اپنے زیورات پھینکتی جاتیں تھیں، پھر آپ اور بلال گھر کی طرف روانہ ہوگئے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment