صحیح بخاری
کتاب
لباس کا بیان
باب
انگوٹھی پر نقش کرنے کا بیان
حدیث نمبر
5468
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَکْتُبَ إِلَی رَهْطٍ أَوْ أُنَاسٍ مِنْ الْأَعَاجِمِ فَقِيلَ لَهُ إِنَّهُمْ لَا يَقْبَلُونَ کِتَابًا إِلَّا عَلَيْهِ خَاتَمٌ فَاتَّخَذَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ نَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ فَکَأَنِّي بِوَبِيصِ أَوْ بِبَصِيصِ الْخَاتَمِ فِي إِصْبَعِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ فِي کَفِّهِ
عبد الاعلی، یزید بن زریع، سعید، قتادہ، حضرت انس بن مالک رضی ﷲ کہتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے عجمیوں کی ایک جماعت کے پاس کچھ لکھ کر بھجوانا چاہاتو لوگوں نے عرض کیا کہ وہ لوگ تو کوئی تحریر قبول نہیں کرتے جب تک کہ اس پر کوئی مہر لگی ہوئی نہ ہو، تو آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ایک چاندی کی انگوٹھی بنوائی، جس پر محمد رسول ﷲ کنندہ تھا، میں گویا اس انگوٹھی کی چمک رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی انگلی یا ہتھیلی میں دیکھ رہا ہوں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment