Monday, August 1, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:460,TotalNo:5111

کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
ذبیحوں اور شکار کا بیان
باب
ذبیحہ پر بسم اللہ پڑھنے کا بیان،۔
حدیث نمبر
5111
حَدَّثَنِي مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَأَصَابَ النَّاسَ جُوعٌ فَأَصَبْنَا إِبِلًا وَغَنَمًا وَکَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُخْرَيَاتِ النَّاسِ فَعَجِلُوا فَنَصَبُوا الْقُدُورَ فَدُفِعَ إِلَيْهِمْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِالْقُدُورِ فَأُکْفِئَتْ ثُمَّ قَسَمَ فَعَدَلَ عَشَرَةً مِنْ الْغَنَمِ بِبَعِيرٍ فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ وَکَانَ فِي الْقَوْمِ خَيْلٌ يَسِيرَةٌ فَطَلَبُوهُ فَأَعْيَاهُمْ فَأَهْوَی إِلَيْهِ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ اللَّهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ کَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَمَا نَدَّ عَلَيْکُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَکَذَا قَالَ وَقَالَ جَدِّي إِنَّا لَنَرْجُو أَوْ نَخَافُ أَنْ نَلْقَی الْعَدُوَّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًی أَفَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ فَقَالَ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُکِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَکُلْ لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ وَسَأُخْبِرُکُمْ عَنْهُ أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَی الْحَبَشَةِ
موسیٰ بن اسماعیل، ابوعوانہ، سعید بن مسروق، عبایہ بن رفاعہ بن رافع اپنے داد رافع بن خدیج کہتے ہیں کہ ہم رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ ذی الحلیفہ میں تھے کہ لوگوں کو بھوک لگی تو ہم نے ایک اونٹ اور ایک بکری ذبح کی اور آپ صلی ﷲ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے پیچھے تھے، لوگوں نے جلدی کی اور ہانڈیاں چڑھا دیں، جب آپ صلی ﷲ علیہ وسلم لوگوں کے پاس پہنچ گئے، تو آپ نے ہانڈیوں کے الٹ دینے کا حکم دیا، پھرمال غنیمت تقسیم کیا اس طرح کہ دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر رکھا، اس میں سےایک اونٹ بھاگ گیا، جماعت میں لوگ تھوڑے تھے، انہوں نے اس کو پکڑ نا چاہا، مگر عاجز رہے، ان میں سے ایک آدمی نے اس کی طرف تیر پھینکا تو اس کو ﷲ تعالی نے روک دیا، نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ان چوپایوں میں بھی جنگلی جانوروں کی طرح بھگوڑے ہوتے ہیں، تو جب کوئی جانور بھاگ جائے تو اس کے ساتھ ایساہی کرو، عبایہ کا بیان ہے کہ میرے دادا نے عرض کیا کہ مجھے امید ہے یایہ کہا کہ ہمیں اندیشہ ہے کہ کل ہمیں دشمن سے مقابلہ کرنا ہو گا اور ہمارے پاس کوئی چھری نہیں تو کیاہم بانس سے ذبح کریں، آپ نے فرمایا کہ جو چیز خون بہادے، اور اس پر ﷲ کا نام لے لیاگیا ہو (تواس سے ذبح کیاہوا) کھالو مگریہ کہ دانت یا ناخن نہ ہو اور میں تمہیں اس کے متعلق بتا دوں کہ دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment