صحیح بخاری
کتاب
ذبیحوں اور شکار کا بیان
باب
مجوس کے برتن اور مردار کا بیان
حدیث نمبر
5110
حَدَّثَنَا الْمَکِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ قَالَ لَمَّا أَمْسَوْا يَوْمَ فَتَحُوا خَيْبَرَ أَوْقَدُوا النِّيرَانَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَامَ أَوْقَدْتُمْ هَذِهِ النِّيرَانَ قَالُوا لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ قَالَ أَهْرِيقُوا مَا فِيهَا وَاکْسِرُوا قُدُورَهَا فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ فَقَالَ نُهَرِيقُ مَا فِيهَا وَنَغْسِلُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ ذَاکَ
مکی بن ابراہیم، یزید بن ابی عبید، سلمہ بن اکوع سے روایت کرتے ہیں کہ جب خیبر فتح ہوچکا تو شام کے وقت لوگوں نے آگ سلگائی نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے کس چیز پرآگ سلگائی ہے (یعنی کیا پکا رہے ہو) لوگوں نے جواب دیا شہری گدھوں کا گوشت آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو کچھ اس میں ہے اسے پھینک دواور ان ہانڈیوں کو توڑ دو ایک آدمی جماعت سے کھڑا ہوا اور عرض کیا کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم اس کے اندر کی چیز کو پھنک دیں اور اس برتن کو دھولیں آپ نے فرمایا اچھا یہی سہی
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment